پھولوں میں وہ خوشبو وہ صباحت نہیں آئی
پھولوں میں وہ خوشبو وہ صباحت نہیں آئی اب تک ترے آنے کی شہادت نہیں آئی موسم تھا نمائش کا مگر آنکھ نہ کھولی جاناں ترے زخموں کو سیاست نہیں آئی جو روح سے آزار کی مانند لپٹ جائے ہم پر وہ گھڑی اے شب وحشت نہیں آئی اے دشت انا الحق ترے قربان ابھی تک وہ منزل اظہار صداقت نہیں آئی ہم لوگ ...