شاعری

صاف ظاہر ہے نگاہوں سے کہ ہم مرتے ہیں

صاف ظاہر ہے نگاہوں سے کہ ہم مرتے ہیں منہ سے کہتے ہوئے یہ بات مگر ڈرتے ہیں ایک تصویر محبت ہے جوانی گویا جس میں رنگوں کے عوض خون جگر بھرتے ہیں عشرت رفتہ نے جا کر نہ کیا یاد ہمیں عشرت رفتہ کو ہم یاد کیا کرتے ہیں آسماں سے کبھی دیکھی نہ گئی اپنی خوشی اب یہ حالت ہے کہ ہم ہنستے ہوئے ...

مزید پڑھیے

سنا کے اپنے عیش تام کی روداد کے ٹکڑے

سنا کے اپنے عیش تام کی روداد کے ٹکڑے اڑا دوں گا کسی دن چرخ کی بیداد کے ٹکڑے اسیری کو عطا کر کے اسیری کا شرف ہم نے اڑا ڈالے خود اپنی فطرت آزاد کے ٹکڑے کہاں کا آدمی انسان کیسا ماحصل یہ ہے کہیں اشخاص کے پرزے کہیں افراد کے ٹکڑے تباہی کے مزوں سے بھی گئے اب واۓ محرومی سمیٹوں گا کہاں ...

مزید پڑھیے

اپنی اجڑی ہوئی دنیا کی کہانی ہوں میں

اپنی اجڑی ہوئی دنیا کی کہانی ہوں میں ایک بگڑی ہوئی تصویر جوانی ہوں میں آگ بن کر جو کبھی دل میں نہاں رہتا تھا آج دنیا میں اسی غم کی نشانی ہوں میں ہائے کیا قہر ہے مرحوم جوانی کی یاد دل سے کہتی ہے کہ خنجر کی روانی ہوں میں عالم افروز تپش تیرے لیے لایا ہوں اے غم عشق ترا عہد جوانی ہوں ...

مزید پڑھیے

پر کیف ضیائیں ہوتی ہیں پر نور اجالے ہوتے ہیں

پر کیف ضیائیں ہوتی ہیں پر نور اجالے ہوتے ہیں جب خاک بسر دل ہوتا ہے اور عرش پہ نالے ہوتے ہیں ہنستے ہیں دہان زخم سے ہم گاتے ہیں فغاں کے بربط پر آشفتہ سروں کی دنیا کے سب ڈھنگ نرالے ہوتے ہیں کیا قہر برستا ہے دل پر ساون کی شبوں میں کیا کہئے کچھ درد کی پھواریں ہوتی ہیں کچھ یاس کے جھالے ...

مزید پڑھیے

کسی سے لڑائیں نظر اور جھیلیں محبت کے غم اتنی فرصت کہاں

کسی سے لڑائیں نظر اور جھیلیں محبت کے غم اتنی فرصت کہاں اٹھائیں کسی ماہ پیکر حسینہ کے جور و ستم اتنی فرصت کہاں زمانے کی بے رحمیوں کے تصدق دماغ نشاط و الم ہی نہیں دل اپنا کرے آرزوئے جفا یا امید کرم اتنی فرصت کہاں ڈبو دیں مئے ناب کی مستیوں میں فلاکت کے نکبت کے احساس کو بنا لیں کسی ...

مزید پڑھیے

بہار فکر کے جلوے لٹا دیے ہم نے

بہار فکر کے جلوے لٹا دیے ہم نے جنون عشق کے دریا بہا دیے ہم نے فروغ دانش و برہاں کے شعلے بھڑکا کر توہمات کے خرمن جلا دیے ہم نے گرا کے درک و بصیرت کی بجلیاں پیہم تعصبات کے ٹکڑے اڑا لیے ہم نے بنا کے فکر و تدبر کو خادم انساں مقدرات کے چھکے چھڑا دیے ہم نے شعور نقد کی صحت پسندیوں کی ...

مزید پڑھیے

ترا آسماں ناوکوں کا خزینہ حیات آفرینا حیات آفرینا

ترا آسماں ناوکوں کا خزینہ حیات آفرینا حیات آفرینا ہماری زمیں لعل و گل کا دفینہ حیات آفرینا حیات آفرینا ہوئے نام اور ننگ سب غرق صہبا مری مے گساری کی ہوگی سزا کیا ترے نام کا ایک جرعہ یہی نا حیات آفرینا حیات آفرینا ترے وعدۂ رزق کی ہے دہائی اگر رزق آزوقۂ روح بھی ہے تو ہم تو ہیں ...

مزید پڑھیے

غم حیات کہانی ہے قصہ خواں ہوں میں

غم حیات کہانی ہے قصہ خواں ہوں میں دل ستم زدہ ہے رازداں ہوں میں زیادہ اس سے کوئی آج تک بتا نہ سکا کہ ایک نکتۂ ناقابل بیاں ہوں میں نظر کے سامنے کوندی تھی ایک بجلی سی مجھے بتاؤ خدارا کہ اب کہاں ہوں میں خزاں نے لوٹ لیا گلشن شباب مگر کسی بہار کے ارمان میں جواں ہوں میں یہ کہہ رہی ہے ...

مزید پڑھیے

شعلے بھڑکاؤ دیکھتے کیا ہو

شعلے بھڑکاؤ دیکھتے کیا ہو جل اٹھے گھاؤ دیکھتے کیا ہو غرق خوناب ہونے والی ہے درد کی ناؤ دیکھتے کیا ہو دل کسی یاد نے چھوا ہوگا آگے بڑھ جاؤ دیکھتے کیا ہو انجم چرخ فکر آدم کا چل گیا داؤ دیکھتے کیا ہو پیے بیٹھے ہیں زہر دوراں ہم جام اٹھواؤ دیکھتے کیا ہو حسن سے لو نظر کی بھیک ...

مزید پڑھیے

دل فسردہ میں کچھ سوز و ساز باقی ہے

دل فسردہ میں کچھ سوز و ساز باقی ہے وہ آگ بجھ گئی لیکن گداز باقی ہے نیاز کیش بھی میری طرح نہ ہو کوئی امید مر چکی ذوق نیاز باقی ہے وہ ابتداے محبت کی لذتیں واللہ کہ اب بھی روح میں اک اہتزاز باقی ہے نہ ساز دل ہے اب اخترؔ نہ حسن کی مضراب مگر وہ فطرت نغمہ نواز باقی ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 5410 سے 5858