آج یوں مجھ سے ملا ہے کہ خفا ہو جیسے
آج یوں مجھ سے ملا ہے کہ خفا ہو جیسے اس کا یہ حسن بھی کچھ میری خطا ہو جیسے وہی مایوسی کا عالم وہی نومیدی کا رنگ زندگی بھی کسی مفلس کی دعا ہو جیسے کبھی خاموشی بھی یوں بولتی ہے پیار کے بول کوئی خاموشی میں بھی نغمہ سرا ہو جیسے حرف دشنام سے یوں اس نے نوازا ہم کو یہ ملامت ہی محبت کا ...