شاعری

اپنی بہار پہ ہنسنے والو کتنے چمن خاشاک ہوئے

اپنی بہار پہ ہنسنے والو کتنے چمن خاشاک ہوئے اپنے رفو کو گننے والو کتنے گریباں چاک ہوئے دیوانوں کو کون بتائے آج کی رسم اور آج کی بات اس نے انہیں کی سمت نظر کی عشق میں جو بے باک ہوئے شعبدۂ یک طرز کرم ہے کیسی سزا اور کیسی جزا موج تبسم جب لہرائی تر دامن بھی پاک ہوئے رخ دیکھا جس سمت ...

مزید پڑھیے

چرخ کی سعیٔ جفا کوشش ناکارہ ہے

چرخ کی سعیٔ جفا کوشش ناکارہ ہے گردش دہر یہاں جنبش گہوارہ ہے چاند تاروں کے تلاطم سے یہ آتا ہے خیال دل وحشی کوئی طوفاں زدہ سیارہ ہے بہہ گئے دیدۂ نم ناک سے دریا لیکن دل وہی ایک دہکتا ہوا انگارہ ہے دل ہوا سوز جہنم میں گرفتار مگر روح اب بھی کسی فردوس میں آوارہ ہے کیسی تقدیر کی گردش ...

مزید پڑھیے

بہار آئی زمانہ ہوا خراباتی

بہار آئی زمانہ ہوا خراباتی ہمارے دل میں بھی اک لہر کاش آ جاتی ہوا بھی سرد ہے بھیگی ہے رات بھی لیکن سلگ رہی ہے کسی آگ سے مری چھاتی مرے پڑوس میں یہ ذکر ہے کئی دن سے صدا جو آتی تھی رونے کی اب نہیں آتی لگا کے سینے سے شادابیوں کو سو جاتا مجھے بہار جوانی میں موت آ جاتی بجا رہا ہے کوئی ...

مزید پڑھیے

کبھی زخم زخم نکھر کے دیکھ کبھی داغ داغ سنور کے دیکھ

کبھی زخم زخم نکھر کے دیکھ کبھی داغ داغ سنور کے دیکھ کبھی تو بھی ٹوٹ مری طرح کبھی ریزہ ریزہ بکھر کے دیکھ سر خار سے سر سنگ سے جو ہے میرا جسم لہو لہو کبھی تو بھی تو مرے سنگ میل کبھی رنگ میرے سفر کے دیکھ اسی کھیل سے کبھی پائے گا تو گداز قلب کی نعمتیں کبھی روٹھ جا کبھی من کے دیکھ کبھی ...

مزید پڑھیے

یہ شوق سارے یقین و گماں سے پہلے تھا

یہ شوق سارے یقین و گماں سے پہلے تھا میں سجدہ ریز نوائے اذاں سے پہلے تھا ہیں کائنات کی سب وسعتیں اسی کی گواہ جو ہر زمین سے ہر آسماں سے پہلے تھا ستم ہے اس سے کہوں جسم و جاں پہ کیا گزری کہ جس کو علم مرے جسم و جاں سے پہلے تھا اسی نے دی ہے وہی ایک دن بجھائے گا پیاس جو سوز سینہ و اشک ...

مزید پڑھیے

سناٹا طوفاں سے سوا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے

سناٹا طوفاں سے سوا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے یہ کچھ اور بڑا دھوکا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے ضبط جنوں سے اندازوں پر در تو بند نہیں ہوتے تو مجھ سے بڑھ کر رسوا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے رہنے دے یہ حرف تسلی میری ہمت پست نہ کر ناکامی ہی میں رستا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے ڈھونڈنے والا ڈھونڈ رہا ...

مزید پڑھیے

یہ تن گھرا ہوا چھوٹے سے گھر میں رہتا ہے

یہ تن گھرا ہوا چھوٹے سے گھر میں رہتا ہے پر اپنا من کہ جو ہر دم سفر میں رہتا ہے دھنک کی طرح نکھرتا ہے شب کو خوابوں میں وہی جو دن کو مری چشم تر میں رہتا ہے وصال اس کو لکھوں میں کہ ہجر کا آغاز جو ایک لمحہ مسلسل نظر میں رہتا ہے چلو وہ ہم نہیں کوئی تو ہے ضرور کہ جو سکوں سے سایۂ دیوار و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5408 سے 5858