اپنی بہار پہ ہنسنے والو کتنے چمن خاشاک ہوئے
اپنی بہار پہ ہنسنے والو کتنے چمن خاشاک ہوئے اپنے رفو کو گننے والو کتنے گریباں چاک ہوئے دیوانوں کو کون بتائے آج کی رسم اور آج کی بات اس نے انہیں کی سمت نظر کی عشق میں جو بے باک ہوئے شعبدۂ یک طرز کرم ہے کیسی سزا اور کیسی جزا موج تبسم جب لہرائی تر دامن بھی پاک ہوئے رخ دیکھا جس سمت ...