شاعری

لطف لے لے کے پیے ہیں قدح غم کیا کیا

لطف لے لے کے پیے ہیں قدح غم کیا کیا ہم نے فردوس بنائے ہیں جہنم کیا کیا آنسوؤں کو بھی پیا جرعۂ صہبا کی طرح ساغر و جام بنے دیدۂ پر نم کیا کیا حلقۂ دام وفا عقدۂ غم موج نشاط یہ زمانہ بھی دکھاتا ہے چم و خم کیا کیا لذت ہجر کبھی عشرت دیدار کبھی آرزو نے بھی طبیعت کو دیئے دم کیا کیا کس کس ...

مزید پڑھیے

خواہش عیش نہیں درد نہانی کی قسم

خواہش عیش نہیں درد نہانی کی قسم بوالہوس کھایا کریں عشرت فانی کی قسم اک غم انگیز حقیقت ہے ہماری ہستی قصہ خواں تیری غم انگیز کہانی کی قسم دل کی گہرائیوں میں آگ دبی رکھتا ہوں چشم گریاں سے برستے ہوئے پانی کی قسم جب سے آئی ہے خدا رکھے جوانی اخترؔ ہم ہر اک بات پر کھاتے ہیں جوانی کی ...

مزید پڑھیے

ہر وقت نوحہ خواں سی رہتی ہیں میری آنکھیں

ہر وقت نوحہ خواں سی رہتی ہیں میری آنکھیں اک دکھ بھری کہانی کہتی ہیں میری آنکھیں جذبات دل کی شدت سہتی ہیں میری آنکھیں گل رنگ اور شفق گوں رہتی ہیں میری آنکھیں عیش و طرب کے جلسے درد و الم کے منظر کیا کچھ نہ ہم نے دیکھا کہتی ہیں میری آنکھیں جب سے دل و جگر کی ہمدرد بن گئی ...

مزید پڑھیے

صدا کچھ ایسی مرے گوش دل میں آتی ہے

صدا کچھ ایسی مرے گوش دل میں آتی ہے کوئی بنائے کہن جیسے لڑکھڑاتی ہے رچا ہوا ہے فضاؤں میں ایک اتھاہ ہراس دماغ شل ہے مگر روح سنسناتی ہے مجھے یقین ہے آندھی کوئی اٹھی ہے کہیں کہ لو چراغ شبستاں کی تھرتھراتی ہے امید یاس کے گہرے خموش جنگل میں ہوائے شام کی مانند سرسراتی ہے سوال ہے غم ...

مزید پڑھیے

مطرب دل کی وہ تانیں کیا ہوئیں

مطرب دل کی وہ تانیں کیا ہوئیں وہ تخیل کی اڑانیں کیا ہوئیں کیا ہوئے وہ ترچھی نظروں کے خدنگ ابرووں کی وہ کمانیں کیا ہوئیں وہ ادائیں جن پہ ہوتی تھیں نثار چاہنے والوں کی جانیں کیا ہوئیں کیا ہوئے ٹوٹے دلوں کے زمزمے بے زبانوں کی زبانیں کیا ہوئیں کیا ہوئے اخترؔ امیدوں کے حصار وہ ...

مزید پڑھیے

اب وہ سینہ ہے مزار آرزو

اب وہ سینہ ہے مزار آرزو تھا جو اک دن شعلہ زار آرزو اب تک آنکھوں سے ٹپکتا ہے لہو بجھ گیا تھا دل میں خار آرزو رنگ و بو میں ڈوبے رہتے تھے حواس ہائے کیا شے تھی بہار آرزو

مزید پڑھیے

میں دل کو چیر کے رکھ دوں یہ ایک صورت ہے

میں دل کو چیر کے رکھ دوں یہ ایک صورت ہے بیاں تو ہو نہیں سکتی جو اپنی حالت ہے مرے سفینے کو دھارے پہ ڈال دے کوئی میں ڈوب جاؤں کہ تر جاؤں میری قسمت ہے رگوں میں دوڑتی ہیں بجلیاں لہو کے عوض شباب کہتے ہیں جس چیز کو قیامت ہے لطافتیں سمٹ آتی ہیں خلد کی دل میں تصورات میں اللہ کتنی قدرت ...

مزید پڑھیے

طبع عشرت پسند رکھتا ہوں

طبع عشرت پسند رکھتا ہوں اک دل دردمند رکھتا ہوں بہت کہتا نہیں میں پستی کو اپنی فطرت بلند رکھتا ہوں چشم باطن سے دیکھتا ہوں میں چشم ظاہر کو بند رکھتا ہوں لفظ شیریں ہیں اور معنی تلخ زہر آمیز قند رکھتا ہوں کامیابی محال ہے اخترؔ ذوق اتنا بلند رکھتا ہوں

مزید پڑھیے

جاں سپاری کے بھی ارماں زندگی کی آس بھی

جاں سپاری کے بھی ارماں زندگی کی آس بھی حفظ ناموس الم بھی نیش غم کا پاس بھی خاک در بر ہی سہی میں خاک بھی وہ خاک ہے جس میں میرے زخم دل کی بو بھی ہے اور باس بھی کتنے دور چرخ ان آنکھوں نے دیکھے کچھ نہ پوچھ مٹ چکا ہے وقت کی رفتار کا احساس بھی ہائے وہ اک نشتر آگیں نیشتر افروز یاد جس کے ...

مزید پڑھیے

خزاں میں آگ لگاؤ بہار کے دن ہیں

خزاں میں آگ لگاؤ بہار کے دن ہیں نئے شگوفے کھلاؤ بہار کے دن ہیں الٹ دو تختہ خزاں کی تباہ کاری کا بساط عیش بچھاؤ بہار کے دن ہیں عذار گل کی دہک سے جلا کے کانٹوں کو لگی دلوں کی بجھاؤ بہار کے دن ہیں ملا کے قطرۂ شبنم میں رنگ و نکہت گل کوئی شراب بناؤ بہار کے دن ہیں بھرے کٹورے چمن کے یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5407 سے 5858