لطف لے لے کے پیے ہیں قدح غم کیا کیا
لطف لے لے کے پیے ہیں قدح غم کیا کیا ہم نے فردوس بنائے ہیں جہنم کیا کیا آنسوؤں کو بھی پیا جرعۂ صہبا کی طرح ساغر و جام بنے دیدۂ پر نم کیا کیا حلقۂ دام وفا عقدۂ غم موج نشاط یہ زمانہ بھی دکھاتا ہے چم و خم کیا کیا لذت ہجر کبھی عشرت دیدار کبھی آرزو نے بھی طبیعت کو دیئے دم کیا کیا کس کس ...