شاعری

جو داغ بن کے تمنا تمام ہو جائے

جو داغ بن کے تمنا تمام ہو جائے ہمیں تو خون بھی رونا حرام ہو جائے شباب درد مری زندگی کی صبح سہی پیوں شراب یہاں تک کہ شام ہو جائے یہی ہے مصلحت انتہائے راز اخترؔ جہاں میں رسم محبت نہ عام ہو جائے

مزید پڑھیے

سننے والے فسانہ تیرا ہے

سننے والے فسانہ تیرا ہے صرف طرز بیاں ہی میرا ہے یاس کی تیرگی نے گھیرا ہے ہر طرف ہول ناک اندھیرا ہے اس میں کوئی مرا شریک نہیں میرا دکھ آہ صرف میرا ہے چاندنی چاندنی نہیں اخترؔ رات کی گود میں سویرا ہے

مزید پڑھیے

میرے رخ سے سکوں ٹپکتا ہے

میرے رخ سے سکوں ٹپکتا ہے گفتگو سے جنوں ٹپکتا ہے مست ہوں میں مری نظر سے بھی بادۂ لالہ گوں ٹپکتا ہے ہاں کبھی خواب عشق دیکھا تھا اب تک آنکھوں سے خوں ٹپکتا ہے آہ اخترؔ میری ہنسی سے بھی میرا حال زبوں ٹپکتا ہے

مزید پڑھیے

حیات انساں کی سر تا پا زباں معلوم ہوتی ہے

حیات انساں کی سر تا پا زباں معلوم ہوتی ہے یہ دنیا انقلاب آسماں معلوم ہوتی ہے مکدر ہے خزاں کے خون سے عیش بہار گل خزاں کی رت بہار بے خزاں معلوم ہوتی ہے مجھے ناکامی پیہم سے مایوسی نہیں ہوتی ابھی امید میری نوجواں معلوم ہوتی ہے کوئی جب نالہ کرتا ہے کلیجہ تھام لیتا ہوں فغان غیر بھی ...

مزید پڑھیے

آئینۂ نگاہ میں عکس شباب ہے

آئینۂ نگاہ میں عکس شباب ہے دنیا سمجھ رہی ہے کہ آنکھوں میں خواب ہے روئے بغیر چارہ نہ رونے کی تاب ہے کیا چیز اف یہ کیفیت اضطراب ہے اے سوز جاں گداز ابھی میں جوان ہوں اے درد لا علاج یہ عمر شباب ہے

مزید پڑھیے

کوئی مآل محبت مجھے بتاؤ نہیں

کوئی مآل محبت مجھے بتاؤ نہیں میں خواب دیکھ رہا ہوں مجھے جگاؤ نہیں کسی کی یاد ہے ان کی مہک سے وابستہ مجھے یہ پھول خدا کے لیے سنگھاؤ نہیں محبت اور جوانی کے تذکرے نہ کرو کسی ستائے ہوئے کو بہت ستاؤ نہیں یہ کہہ رہا ہے محبت کی کاوشوں سے دل یہ میرے ہنسنے کے دن ہیں مجھے رلاؤ نہیں اجڑ ...

مزید پڑھیے

دل کے ارمان دل کو چھوڑ گئے

دل کے ارمان دل کو چھوڑ گئے آہ منہ اس جہاں سے موڑ گئے وہ امنگیں نہیں طبیعت میں کیا کہیں جی کو صدمے توڑ گئے بادۂ باس کے مسلسل دور ساغر آرزو کو پھوڑ گئے مٹ گئے وہ نظارہ ہائے جمیل لیکن آنکھوں میں عکس چھوڑ گئے ہم تھے عشرت کی گہری نیندیں تھیں آئے آلام اور جھنجھوڑ گئے

مزید پڑھیے

سرشار ہوں چھلکتے ہوئے جام کی قسم

سرشار ہوں چھلکتے ہوئے جام کی قسم مست شراب شوق ہوں خیام کی قسم عشرت فروش تھا مرا گزرا ہوا شباب کہتا ہوں کھا کے عشرت ایام کی قسم ہوتی تھی صبح عید مری صبح پر نثار کھاتی تھی شام عیش مری شام کی قسم اخترؔ مذاق درد کا مارا ہوا ہوں میں کھاتے ہیں اہل درد مرے نام کی قسم

مزید پڑھیے

کیا خبر تھی اک بلائے ناگہانی آئے گی

کیا خبر تھی اک بلائے ناگہانی آئے گی نامرادی کی نشانی یہ جوانی آئے گی سب کہیں گے کون کرتا ہے ہمارے راز فاش جب مرے لب پر محبت کی کہانی آئے گی نامرادی سے کہو منہ پھیر لے اپنا ذرا میری دنیا میں عروس کامرانی آئے گی جب خزاں کی نذر ہو جائے گی دنیا سے شباب یاد اخترؔ یہ ستم آرا جوانی آئے ...

مزید پڑھیے

یہ حسین فطرت کے حسن کا انیلا پن

یہ حسین فطرت کے حسن کا انیلا پن زندگی کے عارض پر یہ کریہہ پیلا پن اف یہ بیتی راتوں کی یاد کا کٹیلا پن آنے والی صبحوں کے دھیان کا رسیلا پن کھائے گا شکست اک دن صبر و ضبط پیہم سے درد کا تسلسل اور جبر کا ہٹیلا پن زندگی کی موسیقی کس ستم کی شاکی ہے حزن ہے نواؤں میں لے میں ہے چٹیلا پن

مزید پڑھیے
صفحہ 5406 سے 5858