شاعری

جب بھی ملتے ہیں تو جینے کی دعا دیتے ہیں

جب بھی ملتے ہیں تو جینے کی دعا دیتے ہیں جانے کس بات کی وہ ہم کو سزا دیتے ہیں حادثے جان تو لیتے ہیں مگر سچ یہ ہے حادثے ہی ہمیں جینا بھی سکھا دیتے ہیں رات آئی تو تڑپتے ہیں چراغوں کے لیے صبح ہوتے ہی جنہیں لوگ بجھا دیتے ہیں ہوش میں ہو کے بھی ساقی کا بھرم رکھنے کو لڑکھڑانے کی ہم افواہ ...

مزید پڑھیے

بکھرا ہوں جب میں خود یہاں کوئی مجھے گرائے کیوں

بکھرا ہوں جب میں خود یہاں کوئی مجھے گرائے کیوں پہلے سے راکھ راکھ ہوں پھر بھی کوئی بجھائے کیوں عیسیٰ نہ وہ نبیؐ کوئی ادنیٰ سا آدمی کوئی پھر بھی صلیب درد کو سر پہ کوئی اٹھائیں کیوں سارے جو غم گسار تھے کب کے رقیب بن چکے ایسے میں دوستوں کوئی اپنا یہ غم سنائے کیوں یکتا وہ ذات اکبری ...

مزید پڑھیے

وہی ہیں قتل و غارت اور وہی کہرام ہے ساقی

وہی ہیں قتل و غارت اور وہی کہرام ہے ساقی تمدن اور مذہب کی یہ خونی شام ہے ساقی کمال فن مرا اب تک نہاں ہے ایسے دنیا سے کہ جیوں عبدالحئی میں اک الف گمنام ہے ساقی میری گنگ و جمن تہذیب کی دختر ہے یہ اردو اسے مسلم بنانے کی یہ سازش آم ہے ساقی کریں گے امن کی باتیں دلوں میں بغض رکھیں ...

مزید پڑھیے

صحرائے لا حدود میں تشنہ لبی کی خیر

صحرائے لا حدود میں تشنہ لبی کی خیر ماحول اشک بار میں لب کی ہنسی کی خیر لفاظ سارے بن گئے شاہ سخن یہاں صادق سخن وروں کی سخن پروری کی خیر مشرق میں ہندو و چین کے بازار یوں بڑھے جاہ و جلال مغرب و برطانوی کی خیر ہے عورتوں کی دھوم زمیں سے فلک تلک سعیٔ بقائے شوکت مردانگی کی خیر ارزاں ...

مزید پڑھیے

شام آئی ہے لئے ہاتھ میں یادوں کے چراغ

شام آئی ہے لئے ہاتھ میں یادوں کے چراغ وہ ترے ساتھ گزارے ہوئے لمحوں کے چراغ میرے اس گھر میں اندھیرا کبھی ہوتا ہی نہیں ہیں مرے سینے میں جلتے ہوئے زخموں کے چراغ لاکھ طوفان ہوں کٹیا مری روشن ہی رہی ایک برسات سے بجھنے لگے محلوں کے چراغ زندگی تلخ حقیقت کی ہے اندھی سی گلی اپنی آنکھوں ...

مزید پڑھیے

تازہ ہوا کے واسطے کھڑکی نہ بن سکا

تازہ ہوا کے واسطے کھڑکی نہ بن سکا دے دوں کسی کو چھاؤں وہ بدلی نہ بن سکا بیٹا بسا بدیس میں دولت کے ڈھیر پر لیکن وہ بوڑھے باپ کی لاٹھی نہ بن سکا شاعر کا واسطہ بڑا گہرا ہے بھوک سے اس کا کلام آج بھی روٹی نہ بن سکا کیوں کر کروں امید تو مجھ سا بنے گا دوست جیسا میں چاہتا ہوں وہ خود بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5397 سے 5858