ماضی کی روایات میں گڑ جاتے ہیں
ماضی کی روایات میں گڑ جاتے ہیں مردوں کی طرح قبر میں سڑ جاتے ہیں میں دوست سے بچھڑا ہوا شاعر ہی سہی لوگ اپنے زمانے سے بچھڑ جاتے ہیں
ماضی کی روایات میں گڑ جاتے ہیں مردوں کی طرح قبر میں سڑ جاتے ہیں میں دوست سے بچھڑا ہوا شاعر ہی سہی لوگ اپنے زمانے سے بچھڑ جاتے ہیں
اک ٹیس کلیجے کو مسلتی ہی رہی اک سوت خیالوں میں ابلتی ہی رہی تاریک رہا جادۂ ہستی لیکن اک شمع مرے سینے میں جلتی ہی رہی
سوتے میں کوئی آہ بھری تو ہوگی سینے میں کوئی ہوک اٹھی تو ہوگی رونے کی اک آواز کبھی پچھلے پہر صدقے تری نیندوں کے سنی تو ہوگی
کچھ فیض تو میں نے بھی لٹایا بارے کچھ رنگ تو محفل میں جمایا بارے سرمایۂ عبرت ہوں زمانے کے لیے دنیا کے کسی کام تو آیا بارے
اس ہاتھ سے جو کچھ میں لیا کرتا ہوں اس ہاتھ سے پھر دے بھی دیا کرتا ہوں انفاس کی قیمت ہیں یہ میرے اشعار میں قرض سے آزاد جیا کرتا ہوں
کیا خاک کرم ہے جو مجھے تو بخشے واللہ ستم ہے جو مجھے تو بخشے بخشوں گا نہ میں تیرے جہاں کو یارب تجھ کو بھی قسم ہے جو مجھے تو بخشے
یہ آج کی دنیا بھی ہے مرنے والی اک زندگیٔ نو ہے ابھرنے والی ہم پچھلی صدی میں ہیں ابھی اور یہاں موجودہ صدی بھی ہے گزرنے والی
تشکیک نے ایقان سے محروم رکھا تدقیق نے عرفان سے محروم رکھا القصہ نہ در پے ہو ہمارے کہ ہمیں اللہ نے ایمان سے محروم رکھا
تسکین غم دل کے لیے جیتا ہوں جیتا بھی نہیں، چاک جگر سیتا ہوں اے گردش ایام تری عمر دراز میں بادہ نہیں تیرا لہو پیتا ہوں
اس طرح طبیعت کبھی شیدا نہ ہوئی یہ آگ محبت میں بھی پیدا نہ ہوئی اللہ رے معبودۂ احساس و خیال وہ صبح جو مطلع پہ ہویدا نہ ہوئی