ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سید کام کرتا ہے
ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سید کام کرتا ہے نہ بھولو فرق جو ہے کہنے والے کرنے والے میں کہا جو چاہے کوئی میں تو کہتا ہوں کہ اے اکبرؔ خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں
ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سید کام کرتا ہے نہ بھولو فرق جو ہے کہنے والے کرنے والے میں کہا جو چاہے کوئی میں تو کہتا ہوں کہ اے اکبرؔ خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں
کونسل میں نکتہ چینوں کی ٹولی بہت پٹی اچھا ہوا سنبھل گئی اب یونیورسٹی بیکار کالجوں سے بھرے گی نہ ہر سٹی اس بل سے یہ شکایت احباب بھی مٹی الجھا ہوا ہے چندہ و اسکول میں ہر ایک
میں نے کہا کیوں لاش پہ آقا کی ہے مرتا ہوٹل کی طرف جا کہ غذا بھی ہے کوئی چیز کتے نے کہا ہو یہ جہالت کہ تعصب لیکن مرے نزدیک وفا بھی ہے کوئی چیز
چھوڑ لٹریچر کو اپنی ہسٹری کو بھول جا شیخ و مسجد سے تعلق ترک کر اسکول جا چار دن کی زندگی ہے کوفت سے کیا فائدہ کھا ڈبل روٹی کلرکی کر خوشی سے پھول جا
نئی تہذیب میں بھی مذہبی تعلیم شامل ہے مگر یوں ہی کہ گویا آب زمزم مے میں داخل ہے کہاں تک داد دوں تیری بلاغت کی میں اے اکبرؔ یہ تیرا ایک مطلع لاکھ مضمونوں کا حاصل ہے
جس روشنی میں لوٹ ہی کی آپ ہمیں سوجھے تہذیب کی میں اس کو تجلی نہ کہوں گا لاکھوں کو مٹا کر جو ہزاروں کو ابھارے اس کو تو میں دنیا کی ترقی نہ کہوں گا
واہ رے سید پاکیزہ گہر کیا کہنا یہ دماغ اور حکیمانہ نظر کیا کہنا قوم کے عشق میں پر سوز جگر کیا کہنا ایک ہی دھن میں ہوئی عمر بسر کیا کہنا
اب کہاں تک بت کدہ میں صرف ایماں کیجئے تا کجا عشق بتاں میں سست پیماں کیجئے ہے یہی بہتر علی گڑھ جا کے سید سے کہوں مجھ سے چندہ لیجئے مجھ کو مسلماں کیجئے
قدیم وضع پہ قائم رہوں اگر اکبر تو صاف کہتے ہیں سید ہی رنگ ہے میلا جدید طرز اگر اختیار کرتا ہوں خود اپنی قوم مچاتی ہے شور و واویلا
دیکھتا ہے اک عمر سے بندہ بس یہی باتیں اور یہی فنڈہ ہوتا ہے کچھ کام نہ دھندہ لاؤ چندہ لاؤ چندہ