شاعری

سید سے آج حضرت واعظ نے یہ کہا

سید سے آج حضرت واعظ نے یہ کہا چرچا ہے جا بجا ترے حال تباہ کا سمجھا ہے تو نے نیچر و تدبیر کو خدا دل میں ذرا اثر نہ رہا لا الہ کا ہو تجھ سے ترک صوم و صلوٰۃ و زکوٰۃ و حج کچھ ڈر نہیں جناب رسالت پناہ کا شیطان نے دکھا کے جمال عروس دہر بندہ بنا دیا ہے تجھے حب جاہ کا اس نے دیا جواب کہ مذہب ہو ...

مزید پڑھیے

دربار1911

دیکھ آئے ہم بھی دو دن رہ کے دہلی کی بہار حکم حاکم سے ہوا تھا اجتماع انتشار آدمی اور جانور اور گھر مزین اور مشین پھول اور سبزہ چمک اور روشنی ریل اور تار کراسن اور برق اور پٹرولیم اور تارپین موٹر اور ایروپلین اور جمگھٹے اور اقتدار مشرقی پتلوں میں تھی خدمت گزاری کی امنگ مغربی شکلوں ...

مزید پڑھیے

فرضی لطیفہ

خدا حافظ مسلمانوں کا اکبرؔ مجھے تو ان کی خوشحالی سے ہے یاس یہ عاشق شاہد مقصود کے ہیں نہ جائیں گے ولیکن سعی کے پاس سناؤں تم کو اک فرضی لطیفہ کیا ہے جس کو میں نے زیب قرطاس کہا مجنوں سے یہ لیلیٰ کی ماں نے کہ بیٹا تو اگر کر لے ایم اے پاس تو فوراً بیاہ دوں لیلیٰ کو تجھ سے بلا دقت میں بن ...

مزید پڑھیے

برق کلیسا

رات اس مس سے کلیسا میں ہوا میں دو چار ہائے وہ حسن وہ شوخی وہ نزاکت وہ ابھار زلف پیچاں میں وہ سج دھج کہ بلائیں بھی مرید قدر رعنا میں وہ چم خم کہ قیامت بھی شہید آنکھیں وہ فتنۂ دوراں کہ گنہ گار کریں گال وہ صبح درخشاں کہ ملک پیار کریں گرم تقریر جسے سننے کو شعلہ لپکے دلکش آواز کہ سن کر ...

مزید پڑھیے

عشرتیؔ گھر کی محبت کا مزا بھول گئے

عشرتیؔ گھر کی محبت کا مزا بھول گئے کھا کے لندن کی ہوا عہد وفا بھول گئے پہنچے ہوٹل میں تو پھر عید کی پروا نہ رہی کیک کو چکھ کے سوئیوں کا مزا بھول گئے بھولے ماں باپ کو اغیار کے چرنوں میں وہاں سایۂ کفر پڑا نور خدا بھول گئے موم کی پتلیوں پر ایسی طبیعت پگھلی چمن ہند کی پریوں کی ادا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5385 سے 5858