شاعری

بٹھائی جائیں گی پردے میں بیبیاں کب تک

بٹھائی جائیں گی پردے میں بیبیاں کب تک بنے رہو گے تم اس ملک میں میاں کب تک حرم سرا کی حفاظت کو تیغ ہی نہ رہی تو کام دیں گی یہ چلمن کی تیلیاں کب تک میاں سے بی بی ہیں پردہ ہے ان کو فرض مگر میاں کا علم ہی اٹھا تو پھر میاں کب تک طبیعتوں کا نمو ہے ہوائے مغرب میں یہ غیرتیں یہ حرارت یہ ...

مزید پڑھیے

مدرسہ علی گڑھ

خدا علی گڑھ کے مدرسے کو تمام امراض سے شفا دے بھرے ہوئے ہیں رئیس زادے امیر زادے شریف زادے لطیف و خوش وضع چست و چالاک و صاف و پاکیزہ شاد و خرم طبیعتوں میں ہے ان کی جودت دلوں میں ان کے ہیں نیک ارادے کمال محنت سے پڑھ رہے ہیں کمال غیرت سے پڑھ رہے ہیں سوار مشرق راہ میں ہیں تو مغربی راہ ...

مزید پڑھیے

جلوۂ دربار دہلی

سر میں شوق کا سودا دیکھا دہلی کو ہم نے بھی جا دیکھا جو کچھ دیکھا اچھا دیکھا کیا بتلائیں کیا کیا دیکھا جمنا جی کے پاٹ کو دیکھا اچھے ستھرے گھاٹ کو دیکھا سب سے اونچے لاٹ کو دیکھا حضرت ''ڈیوک کناٹؔ'' کو دیکھا پلٹن اور رسالے دیکھے گورے دیکھے کالے دیکھے سنگینیں اور بھالے دیکھے بینڈ ...

مزید پڑھیے

مس سیمیں بدن

ایک مس سیمیں بدن سے کر لیا لندن میں عقد اس خطا پر سن رہا ہوں طعنہ ہائے دل خراش کوئی کہتا ہے کہ بس اس نے بگاڑی نسل قوم کوئی کہتا ہے کہ یہ ہے بد خصال و بد معاش دل میں کچھ انصاف کرتا ہی نہیں کوئی بزرگ ہو کے اب مجبور خود اس راز کو کرتا ہوں فاش ہوتی تھی تاکید لندن جاؤ انگریزی پڑھو قوم ...

مزید پڑھیے

آم نامہ

نامہ نہ کوئی یار کا پیغام بھیجئے اس فصل میں جو بھیجئے بس آم بھیجئے ایسا ضرور ہو کہ انہیں رکھ کے کھا سکوں پختہ اگرچہ بیس تو دس خام بھیجئے معلوم ہی ہے آپ کو بندے کا ایڈریس سیدھے الہ آباد مرے نام بھیجئے ایسا نہ ہو کہ آپ یہ لکھیں جواب میں تعمیل ہوگی پہلے مگر دام بھیجئے

مزید پڑھیے

سب جانتے ہیں علم سے ہے زندگی کی روح

سب جانتے ہیں علم سے ہے زندگی کی روح بے علم ہے اگر تو وہ انساں ہے نا تمام بے علم و بے ہنر ہے جو دنیا میں کوئی قوم نیچر کا اقتضا ہے رہے بن کے وہ غلام تعلیم اگر نہیں ہے زمانہ کے حسب و حال پھر کیا امید دولت و آرام و احترام سید کے دل میں نقش ہو اس خیال کا ڈالی بنائے مدرسہ لے کر خدا کا ...

مزید پڑھیے

نئی تہذیب

یہ موجودہ طریقے راہیٔ ملک عدم ہوں گے نئی تہذیب ہوگی اور نئے ساماں بہم ہوں گے نئے عنوان سے زینت دکھائیں گے حسیں اپنی نہ ایسا پیچ زلفوں میں نہ گیسو میں یہ خم ہوں گے نہ خاتونوں میں رہ جائے گی پردے کی یہ پابندی نہ گھونگھٹ اس طرح سے حاجب روئے صنم ہوں گے بدل جائے گا انداز طبائع دور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5384 سے 5858