کہتے ہیں ازل جس کو اس سے بھی کہیں پہلے
کہتے ہیں ازل جس کو اس سے بھی کہیں پہلے ایمان محبت پر لائے تھے ہمیں پہلے اسرار خود آگاہی دیوانے سمجھتے ہیں تکمیل جنوں آخر معراج یقیں پہلے چمکا دیا سجدوں نے نقش کف پا لیکن روشن تو نہ تھی اتنی یہ میری جبیں پہلے ہر بار یہ رہ رہ کر ہوتا ہے گماں مجھ کو شاید ترے جلووں کو دیکھا تھا ...