کہیں دعا تو کہیں حرف التجا ٹھہری
کہیں دعا تو کہیں حرف التجا ٹھہری میں اپنے آپ میں ڈوبی تو بے صدا ٹھہری میں جانتی ہوں سلامت نہیں کوئی دامن یہ روشنی بھی کہاں کس کا آئنہ ٹھہری سفر تھا شرط مگر جب بھی ایک نام آیا قدم تو چلتے رہے روح جا بجا ٹھہری تو درمیاں میں ملا درمیاں میں چھوٹ گیا جو ابتدا تھی مری حد انتہا ...