شاعری

اب کہو کارواں کدھر کو چلے

اب کہو کارواں کدھر کو چلے راستے کھو گئے چراغ جلے آنسوؤں میں نہا گئیں خوشیاں روٹھ کر جب وہ آ لگے ہیں گلے عشق غم کو عبور کر نہ سکا راستے کارواں کے ساتھ چلے ہم پہ گزری ہیں ہجر کی راتیں ہم جہنم میں تھے مگر نہ جلے تھے محبت کی ابتدا کے قصور وہ تبسم جو آنسوؤں میں ڈھلے خاک سے سینکڑوں ...

مزید پڑھیے

حوصلے مایوس ذوق جستجو ناکام ہے

حوصلے مایوس ذوق جستجو ناکام ہے یہ دل‌ نا محرم انجام کا انجام ہے آنکھ کیا ہے حسن کی رنگینیوں کا آئنہ دل ہے کیا خون تمنا کا چھلکتا جام ہے دیجیے بیمار‌ الفت کی جگر داری کی داد نزع کا عالم ہے ہونٹوں پر تمہارا نام ہے پھر وہ یاد آئے ہوئی مدہوش دل کی کائنات پھر اٹھا درد جگر پھر کچھ ...

مزید پڑھیے

کرتے کرتے امتزاج کعبہ و بت خانہ ہم

کرتے کرتے امتزاج کعبہ و بت خانہ ہم اس جگہ پہنچے کہ ہو کر رہ گئے دیوانہ ہم سانس لے سکتے نہیں افسوس آزادانہ ہم جانے کب سے ہیں اسیر کعبہ و بتخانہ ہم وہ محبت ہی نہیں جس میں نہ ہوں شکوے گلے اک کہانی تم سنائے جاؤ اک افسانہ ہم دیر پا نکلی نہ فانوس خرد کی روشنی بڑھ گئی وحشت بالآخر ہو ...

مزید پڑھیے

ہزاروں غم ہیں اس منزل میں منزل دیکھنے والے

ہزاروں غم ہیں اس منزل میں منزل دیکھنے والے کلیجہ تھام لے اپنا مرا دل دیکھنے والے یہ دل والوں کو تعلیم سجود پائے جاناں ہے سر ہر موج کو برپائے ساحل دیکھنے والے ہر اک ذرے میں پوشیدہ ہے اک طغیان مدہوشی سنبھل کر دیکھنا پیمانۂ دل دیکھنے والے مٹاتا جا رہا ہوں نقش پا صحرا نوردی ...

مزید پڑھیے

مرے مٹانے کی تدبیر تھی حجاب نہ تھا

مرے مٹانے کی تدبیر تھی حجاب نہ تھا وگرنہ کون سے دن حسن بے نقاب نہ تھا اگرچہ ناز کش ساغر شراب نہ تھا خمار خانے میں مجھ سا کوئی خراب نہ تھا کھلا طلسم تمنا تو کھل گیا یہ بھی کہ اک فریب نظر تھا ترا شباب نہ تھا خیال دوست تری جلوہ تابیوں کی قسم جو تو نہ تھا مری دنیا میں آفتاب نہ ...

مزید پڑھیے

رموز بے خودی سمجھے نہ اسرار خودی سمجھے

رموز بے خودی سمجھے نہ اسرار خودی سمجھے بڑی شے ہے اگر اپنی حقیقت آدمی سمجھے ضیا اندر ضیا تنویر در تنویر ضو در ضو کوئی آخر کہاں تک راز ہائے زندگی نہیں ہٹتی نظر انجام عالم سے نہیں ہٹتی اسے کوئی خودی گردان لے یا بے خودی سمجھے بہت مشکل ہے اس معیار کی رندی زمانے میں جو لغزش کو گنہ ...

مزید پڑھیے

کچھ اس طرح سے تصور میں آ رہا ہے کوئی

کچھ اس طرح سے تصور میں آ رہا ہے کوئی چراغ روح میں جیسے جلا رہا ہے کوئی کوئی کلیم اٹھے ورنہ انتظار کے بعد چراغ طورمحبت بجھا رہا ہے کوئی وہ دیر کا تھا کہ کعبے کا یہ نہیں معلوم مری خودی کا محافظ خدا رہا ہے کوئی جو روکنا ہو تو آ بڑھ کے روک لے ورنہ ترے حدود تغافل سے جا رہا ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4385 سے 5858