اب کہو کارواں کدھر کو چلے
اب کہو کارواں کدھر کو چلے راستے کھو گئے چراغ جلے آنسوؤں میں نہا گئیں خوشیاں روٹھ کر جب وہ آ لگے ہیں گلے عشق غم کو عبور کر نہ سکا راستے کارواں کے ساتھ چلے ہم پہ گزری ہیں ہجر کی راتیں ہم جہنم میں تھے مگر نہ جلے تھے محبت کی ابتدا کے قصور وہ تبسم جو آنسوؤں میں ڈھلے خاک سے سینکڑوں ...