بھورے بھورے بادلوں سے آسماں لبریز ہے
بھورے بھورے بادلوں سے آسماں لبریز ہے اس طرح ضو پاش ہے رہ رہ کے ماہ سیم فام جیسے ساحل کی بلندی سے بھری برسات میں گدلے پانی میں حسیں مچھلی کا انداز خرام
بھورے بھورے بادلوں سے آسماں لبریز ہے اس طرح ضو پاش ہے رہ رہ کے ماہ سیم فام جیسے ساحل کی بلندی سے بھری برسات میں گدلے پانی میں حسیں مچھلی کا انداز خرام
حوض میں گر پڑا گلاب کا پھول پاس لانے سے دور جاتا ہے جیسے مدت میں ملنے والے کا نام مشکل سے یاد آتا ہے
بیٹھے بیٹھے ان کی محفل یاد آ جاتی ہے جب دیکھتی ہے یہ سماں تخئیل کی اونچی نگاہ جیسے تھوڑی دیر ننھی بوندیاں پڑنے کے بعد چرخ پر خالی سمٹتے پھیلتے ابر سیاہ
ریل نے سیٹی بجائی شورؔ و دامنؔ چل دیئے چھا گیا ایسا نشاط عقل پر رنج و ملال جیسے اک حساس کو پردیس میں سونے کے وقت دیس کی محبوب و نا ہموار گلیوں کا خیال
مینہ برس کر تھم گیا ہے پھٹ گئے ابر سیاہ ٹہنیاں ہل کر ہوا سے گر رہی ہیں بوندیاں جس طرح یاد وطن میں ڈوبتے سورج کے وقت قید خانے میں نئے قیدی کے اشکوں کا سماں
عشق کب اپنے مقاصد کا نگہباں نہ ہوا کون سا غم ہے جو آخر غم جاناں نہ ہوا لاکھ چاہا مگر افسوس کہ آنسو نہ تھمے ضبط غم مجھ سے بقدر غم پنہاں نہ ہوا تیری عشرت ہے کہ گردوں کے دبائے نہ دبی میرا غم ہے کہ ہنسی میں بھی نمایاں نہ ہوا غم دنیا غم عقبیٰ غم ہستی غم موت کوئی غم بھی تو حریف غم جاناں ...
شب خمار حسن ساقی حیرت میخانہ تھا آپ ہی مے آپ ہی خم آپ ہی پیمانہ تھا کعبہ و دیر کلیسا میں عبث ڈھونڈا کئے دل کا ہر گوشہ مقام جلوۂ جانانہ تھا رنگ لایا ہے برائے دیدۂ انجام جو شمع ہر ہر ذرۂ خاک پر پروانہ تھا خامیٔ ذوق نظر تھی ورنہ اے ناکام عشق ذرے ذرے سے نمایاں جلوۂ جانانہ ...
مجھے پوچھا ہے آ کر تم نے اس اخلاق کامل سے کہ میں شرمندہ ہو کر رہ گیا اندازۂ دل سے نظر کے رخ کو یا تو دل کی جانب پھیر لینے دو نہیں تو سامنے آ جاؤ اٹھ کر پردۂ دل سے امیدیں اٹھ رہی ہیں سیکڑوں امیدواروں کی میں تنہا ہوں مگر تنہا نہیں اٹھوں گا محفل سے امیر کارواں جس روشنی کے بل پہ ...
ہنگامۂ خودی سے تو بے نیاز ہو جا گم ہو کے بے خودی میں آگاہ راز ہو جا حد بھی تو چاہیئے کچھ بے اعتنائیوں کی غارت گر تحمل تسکیں نواز ہو جا اے سرمدی ترانے ہر شے میں سوز بھر دے یہ کس نے کہہ دیا ہے پابند ساز ہو جا غیرت کی چلمنوں سے آواز آ رہی ہے محو نیاز مندی آ بے نیاز ہو جا آ مل کے پھر ...
جب بھی خلوت میں وہ یاد آئے گا وقت کا سیل ٹھہر جائے گا چاند تم دیکھ رہے ہو جس کو یہ بھی آنسو سا ڈھلک جائے گا ایک دو موڑ ہی مڑ کر انساں بام گردوں کی خبر لائے گا میں نے دیکھے ہیں چمن بے پردہ کوئی گل کیا مرے منہ آئے گا حسن سے دور ہی رہنا بہتر جو ملے گا وہی پچھتائے گا اور کچھ دیر ...