بچھڑ کر ان سے یوں غم میں گزاری زندگی ہم نے
بچھڑ کر ان سے یوں غم میں گزاری زندگی ہم نے سحر تاریک دیکھی سرخ پائی چاندنی ہم نے ہمیں دعویٰ نہیں تنہا نباہی دوستی ہم نے محبت کو سنبھالا ہے کبھی تم نے کبھی ہم نے خوشی غم میں نظر آئی خوشی میں غم نظر آیا ابھی دنیا پہ ڈالی تھی نگاہ سرسری ہم نے بڑی بے چارگی نکلی بہت ہی نارسی پائی ازل ...