شاعری

اچھا ہے تو نے ان دنوں دیکھا نہیں مجھے

اچھا ہے تو نے ان دنوں دیکھا نہیں مجھے دنیا نے تیرے کام کا چھوڑا نہیں مجھے ہاں ٹھیک ہے میں بھولا ہوا ہوں جہان کو لیکن خیال اپنا بھی ہوتا نہیں مجھے اب اپنے آنسوؤں پہ ہے سیرابئ حیات کچھ اور اس فلک پہ بھروسا نہیں مجھے ہے مہرباں کوئی جو کئے جا رہا ہے کام ورنہ معاش کا تو سلیقہ نہیں ...

مزید پڑھیے

جانتا ہوں کہ کئی لوگ ہیں بہتر مجھ سے

جانتا ہوں کہ کئی لوگ ہیں بہتر مجھ سے پھر بھی خواہش ہے کہ دیکھو کبھی مل کر مجھ سے سوچتا کیا ہوں ترے بارے میں چلتے چلتے تو ذرا پوچھنا یہ بات ٹھہر کر مجھ سے میں یہی سوچ کے ہر حال میں خوش رہتا ہوں روٹھ جائے نہ کہیں میرا مقدر مجھ سے مجھ پہ مت چھوڑ کہ پھر بعد میں پچھتائے گا فیصلے ٹھیک ...

مزید پڑھیے

کوئی نام ہے نہ کوئی نشاں مجھے کیا ہوا

کوئی نام ہے نہ کوئی نشاں مجھے کیا ہوا میں بکھر گیا ہوں کہاں کہاں مجھے کیا ہوا کسے ڈھونڈتا ہوں میں اپنے قرب و جوار میں اے فراق صحبت دوستاں مجھے کیا ہوا یہ کہاں پڑا ہوں زمیں کے گرد و غبار میں وہ کہاں گیا مرا آسماں مجھے کیا ہوا کوئی رات تھی کوئی چاند تھا کئی لوگ تھے وہ عجب سماں تھا ...

مزید پڑھیے

جو دل کو پہلے میسر تھا کیا ہوا اس کا

جو دل کو پہلے میسر تھا کیا ہوا اس کا جو اس سکون سے بہتر تھا کیا ہوا اس کا کہاں لیے چلی جاتی ہے مجھ کو ویرانی یہیں کہیں پہ مرا گھر تھا کیا ہوا اس کا کچھ ایسے اشک پئے ہیں کہ اب خبر ہی نہیں اس آنکھ میں جو سمندر تھا کیا ہوا اس کا نظر گئی سو گئی پر کوئی بتائے مجھے بڑے کمال کا منظر تھا ...

مزید پڑھیے

رات گہری ہے مگر ایک سہارا ہے مجھے

رات گہری ہے مگر ایک سہارا ہے مجھے یہ مری آنکھ کا آنسو ہی ستارا ہے مجھے میں کسی دھیان میں بیٹھا ہوں مجھے کیا معلوم ایک آہٹ نے کئی بار پکارا ہے مجھے آنکھ سے گرد ہٹاتا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں اپنے بکھرے ہوئے ملبے کا نظارا ہے مجھے اے مرے لاڈلے اے ناز کے پالے ہوئے دل تو نے کس کوئے ...

مزید پڑھیے

اس لیے دل برا کیا ہی نہیں

اس لیے دل برا کیا ہی نہیں زندگی میرا فیصلہ ہی نہیں اس قدر شور تھا مرے سر میں اپنی آواز پر رکا ہی نہیں بڑی خواہش تھی مجھ کو ہونے کی ہو گیا ہوں تو کچھ ہوا ہی نہیں ظلم کرتا ہوں ظلم سہتا ہوں میں کبھی چین سے رہا ہی نہیں پڑ گیا ہے خدا سے کام مجھے اور خدا کا کوئی پتہ ہی نہیں توڑ ڈالو ...

مزید پڑھیے

ابرو نے ترے کھینچی کماں جور و جفا پر

ابرو نے ترے کھینچی کماں جور و جفا پر قرباں کروں سو جیو ترے تیر ادا پر یاقوت کو لاوے نہیں خاطر میں کبھی وہ جس کی نظر اے یار پڑے تیری حنا پر کیا خوب ترے سر پہ لگے چیرہ‌ٔ سالو کیا زیب دیوے بسمہ تری سبز قبا پر تجھ دام میں اے آہوئے چیں بند ہے فائزؔ ہرگز نہیں اوس طائر‌ اندیشہ خطا پر

مزید پڑھیے

اے جان شب ہجراں تری سخت بڑی ہے

اے جان شب ہجراں تری سخت بڑی ہے ہر پل مگر اس نس کی برمہا کی گھڑی ہے ہر بال میں ہے میرا دل صاف گرفتار کیا خوب تری زلف میں موتیاں کی لڑی ہے نیلم کی جھلک دیتی ہے یاقوت میں گویا سو تیرے لب لعل پہ مسی کی دھڑی ہے تھے ذکر درازی کے تری ہجر کی شب کے کیا پہنچی شتاب آ کے تری عمر بڑی ہے سورج ...

مزید پڑھیے

چودہواں اس چندر کا سال ہوا

چودہواں اس چندر کا سال ہوا حسن میں بدر با کمال ہوا تجھ سا چنچل نہیں زمانے میں رم میں اے من ہرن غزال ہوا باغ دل میں تو نخل طوبیٰ ہے سرو تجھ قد سے پائمال ہوا رات دن تو رہے رقیباں سنگ دیکھنا تیرا مجھ محال ہوا دیکھ کر تجھ نین کی شوخی کوں تھک کے صحرا نشیں غزال ہوا مرغ دل کے پھنسانے ...

مزید پڑھیے

جب سجیلے خرام کرتے ہیں

جب سجیلے خرام کرتے ہیں ہر طرف قتل عام کرتے ہیں مکھ دکھا چھب بنا لباس سنوار عاشقوں کو غلام کرتے ہیں یہ چکورے مل اس سریجن سوں رات دن اپنا کام کرتے ہیں یار کو عاشقان صاحب فن ایک دیکھے میں رام کرتے ہیں گردش چشم سوں سریجن سب بزم میں کار جام کرتے ہیں یہ نہیں نیک طور خوباں کے آشنائی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4334 سے 5858