شاعری

تپتا سورج شام کو ڈھل جائے گا

تپتا سورج شام کو ڈھل جائے گا وقت کیسا ہی پڑے ٹل جائے گا آ گیا ہے راس ویرانہ اسے لوٹ کے گھر کیسے پاگل جائے گا جھومتا لہراتا للچاتا چلا کیا پتا کس دیس بادل جائے گا پھونکنے سے قبل ہمسائے کا گھر یہ نہ سوچا اپنا گھر جل جائے گا فیضیؔ کتنے با وفا ہوتے ہیں دوست وقت پڑتے ہی پتا چل جائے ...

مزید پڑھیے

رستے میں شام ہو گئی قصہ تمام ہو چکا

رستے میں شام ہو گئی قصہ تمام ہو چکا جو کچھ بھی تھا اے زندگی وہ تیرے نام ہو چکا کب کی گزر گئی وہ شب جس میں کسی کا نور تھا کب کی گلی میں دھوپ ہے جینا حرام ہو چکا پھرتے رہیں نگر نگر کوچہ بہ کوچہ در بہ در اپنے خیام جل چکے اپنا سلام ہو چکا رات میں باقی کچھ نہیں نیند میں باقی کچھ ...

مزید پڑھیے

دھند میں ڈوبی ساری فضا تھی اس کے بال بھی گیلے تھے

دھند میں ڈوبی ساری فضا تھی اس کے بال بھی گیلے تھے جس کی آنکھیں جھیلوں جیسی جس کے ہونٹ رسیلے تھے جس کو کھو کر خاک ہوئے ہم آج اسے بھی دیکھا تو ہنستی آنکھیں افسردہ تھیں ہونٹ بھی نیلے نیلے تھے جن کو چھو کر کتنے زیدیؔ اپنی جان گنوا بیٹھے میرے عہد کی شہنازوںؔ کے جسم بڑے زہریلے ...

مزید پڑھیے

برگ صدا کو لب سے اڑے دیر ہو گئی

برگ صدا کو لب سے اڑے دیر ہو گئی ہم کو بھی اب تو خاک ہوئے دیر ہو گئی اب ساحلوں پہ کس کو صدا دے رہے ہو تم لمحوں کے بادبان کھلے دیر ہو گئی اے حسن خود پرست ذرا سوچ تو سہی مہر و وفا سے تجھ کو ملے دیر ہو گئی تیرا وصال خیر اب اک واقعہ ہوا اب اپنے آپ سے بھی ملے دیر ہو گئی صدیوں کی ریت ...

مزید پڑھیے

اس نے پوچھا بھی مگر حال چھپائے گئے ہم

اس نے پوچھا بھی مگر حال چھپائے گئے ہم اپنے ہی آپ میں اک حشر اٹھائے گئے ہم زندگی دیکھ کہ احسان ترے کتنے ہیں دل کے ہر داغ کو آئینہ بنائے گئے ہم پھر وہی شام وہی درد وہی اپنا جنوں جانے کیا یاد تھی وہ جس کو بھلائے گئے ہم کن دریچوں کے چراغوں سے ہمیں نسبت تھی کہ ابھی جل نہیں پائے کہ ...

مزید پڑھیے

بدن کو خاک کیا اور لہو کو آب کیا

بدن کو خاک کیا اور لہو کو آب کیا پھر اس کے بعد مرتب نیا نصاب کیا تھکن سمیٹ کے صدیوں کی جب گرے خود پر تجھے خود اپنے ہی اندر سے بازیاب کیا پھر اس کے بعد ترے عشق کو لگایا گلے ہر ایک سانس کو اپنے لیے عذاب کیا اگر وجود میں آ کر اسے نہ ملنا تھا ہمیں کیوں بھیج کے اس دہر میں خراب کیا اسی ...

مزید پڑھیے

تمہارے بعد جو بکھرے تو کو بہ کو ہوئے ہم

تمہارے بعد جو بکھرے تو کو بہ کو ہوئے ہم پھر اس کے بعد کہیں اپنے روبرو ہوئے ہم تمام عمر ہوا کی طرح گزاری ہے اگر ہوئے بھی کہیں تو کبھو کبھو ہوئے ہم یوں گرد راہ بنے عشق میں سمٹ نہ سکے پھر آسمان ہوئے اور چار سو ہوئے ہم رہی ہمیشہ دریدہ قبائے جسم تمام کبھی نہ دست ہنر مند سے رفو ہوئے ...

مزید پڑھیے

اسی جہاز کے صحرا میں ڈوب جانے کی

اسی جہاز کے صحرا میں ڈوب جانے کی خبر ملی تھی مجھے خواب میں خزانے کی بہت سے دیدہ و نادیدہ خواب سامنے تھے اک ایسی سمت تھی کروٹ مرے سرہانے کی میں اس جگہ پہ جو اک دن پلٹ کے آیا تو کوئی بھی چیز نہیں تھی مرے زمانے کی ہر ایک کام سہولت سے ہوتا رہتا تھا کوئی خلش نہیں ہوتی تھی کر دکھانے ...

مزید پڑھیے

دونوں جہاں سے آ گیا کر کے ادھر ادھر کی سیر

دونوں جہاں سے آ گیا کر کے ادھر ادھر کی سیر پوچھو نہ جا رہا ہوں میں کرنے کو اب کدھر کی سیر مٹی کی خوبصورتی مٹی میں مل کے دیکھیے چھوڑیئے اس مکین کو کیجیے اپنے گھر کی سیر دیکھی نہیں تھی چاک نے اچھی طرح سے دیکھ لی ویسے بھی دل فریب تھی کوزے پہ کوزہ گر کی سیر سیب کے پیڑ کے تلے گیند وہ ...

مزید پڑھیے

تین رنگ ایک رنگ

تم پتنگ بن کے ہواؤں میں تیرتی پھرو اور ڈور مرے ہاتھوں کو کاٹتی رہے پر پر زخمی اور آنکھیں تیرے رنگوں میں الجھی رہیں لہو بہتا رہے اور آس تجھے چاہنے کی آسمان بن کے ترے چاروں طرف بکھر جائے شام اترے تو تیری آنکھوں کا رنگ مجھے اپنی پناہ میں سمیٹ لے اور تیری راہوں پر میرا اک اک لمس بکھیر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4324 سے 5858