شاعری

اے مبارز طلب

عشق کی تند خیزی کے اوقات آخر ہوئے اے مبارز طلب زندگی الوداع الوداع..... اپنے اوقات آخر ہوئے خواب کی لہر میں درد کے شہر میں گرد..... رخت سفر دل لہو میں ہے تر زندگی کٹ گئی تیغ کی دھار پر سجدہ کرتے جبیں کتنی زخمی ہوئی اور خدا آج تک ہم سے راضی نہیں اور زمیں سخت ہے منزلیں گرد ہیں بادلوں کی ...

مزید پڑھیے

''لا'' بھی ہے ایک گماں

تم نے کیا دیکھا یہاں کچھ بھی نہیں ہم نے کیا پایا یہاں کچھ بھی نہیں ''بے کسی ہائے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں'' ''لا'' سے آغاز فسانے کا ہوا ''لا'' سے تہذیب زمانے کی ہوئی ''لا'' کی تفسیر نہیں ہے ممکن ''لا'' ہی سے عشق کا آغاز ہوا عشق ہے ایک بلا عشق سفاک و ہوس ناک دریدہ دامن جس کے قدموں سے بپھرتے ...

مزید پڑھیے

مجھے کون بلاتا رہتا ہے

''مرے پاؤں کے نیچے خاک نہیں کسی اور زمیں کی مٹی ہے'' مرے ہاتھ میں وقت کی راسیں ہیں جو پل پل پھسلی جاتی ہیں اور ہرے درختوں کی شاخیں مرا رستہ جھانکتی رہتی ہیں اور سبز گھنیرا جنگل ہے مرے پاؤں کے نیچے چاند نہیں اک اور ہی دیس کی مٹی ہے اور دھوپ کا دریا موج میں ہے اور دشت مرے قدموں سے ...

مزید پڑھیے

دن اترتے ہی نئی شام پہن لیتا ہوں

دن اترتے ہی نئی شام پہن لیتا ہوں میں تری یادوں کا احرام پہن لیتا ہوں میرے گھر والے بھی تکلیف میں آ جاتے ہیں میں جو کچھ دیر کو آرام پہن لیتا ہوں رات کو اوڑھ کے سو جاتا ہوں دن بھر کی تھکن صبح کو پھر سے کئی کام پہن لیتا ہوں جب بھی پردیس میں یاد آتا ہے گھر کا نقشہ میں تصور میں در و ...

مزید پڑھیے

نہ تو ہم بحر سے واقف نہ سخن جانتے ہیں

نہ تو ہم بحر سے واقف نہ سخن جانتے ہیں کیسے دیں لفظوں کو ترتیب یہ فن جانتے ہیں وہ کسی طور بھی تجھ کو نہ لگائیں گے گلے اے خوشی جو بھی ترا چال چلن جانتے ہیں دل کے مندر میں ہیں دو ایک پجاری ایسے جو نہ پوجا نہ عبادت نہ بھجن جانتے ہیں اس لئے تھام کے رکھا ہے جنوں کا دامن اے خرد ہم ترا ...

مزید پڑھیے

لوگ کہتے ہیں بہت ہم نے کمائی دنیا

لوگ کہتے ہیں بہت ہم نے کمائی دنیا آج تک میری سمجھ میں نہیں آئی دنیا جب نظر نامۂ اعمال کے دفتر پہ پڑی نیکیوں پر مجھے ابھری نظر آئی دنیا ظاہری آنکھوں سے دیکھو تو دکھائی دے پہاڑ باطنی آنکھوں سے دیکھو تو ہے رائی دنیا یہ قدم تیرے تعاقب میں چلے ہیں کتنا یہ بتائے گی مری آبلہ پائی ...

مزید پڑھیے

دن اترتے ہی نئی شام پہن لیتا ہوں

دن اترتے ہی نئی شام پہن لیتا ہوں میں تری یادوں کا احرام پہن لیتا ہوں میرے گھر والے بھی تکلیف میں آ جاتے ہیں میں جو کچھ دیر کو آرام پہن لیتا ہوں رات کو اوڑھ کے سو جاتا ہوں دن بھر کی تھکن صبح کو پھر سے کئی کام پہن لیتا ہوں جب بھی پردیس میں یاد آتا ہے گھر کا نقشہ میں تصور میں در و ...

مزید پڑھیے

یہ اور بات کہ تاخیر سے الگ کروں گا

یہ اور بات کہ تاخیر سے الگ کروں گا مگر تجھے تری تصویر سے الگ کروں گا مسافرت سے جو فرصت ہوئی نصیب تو پھر تھکن کو پاؤں کی زنجیر سے الگ کروں گا جو میرے دائمی احساس سے جڑا ہے سبق میں کس طرح اسے تحریر سے الگ کروں گا کنوارے خواب ہوئے جا رہے ہیں آوارہ انہیں میں لذت تعبیر سے الگ کروں ...

مزید پڑھیے

صراحی مضمحل ہے مے کا پیالہ تھک چکا ہے

صراحی مضمحل ہے مے کا پیالہ تھک چکا ہے در ساقی پہ ہر اک آنے والا تھک چکا ہے اندھیرو آؤ آ کر تم ہی کچھ آرام دے دو کہ چلتے چلتے بیچارہ اجالا تھک چکا ہے عداوت کی دراریں ویسی کی ویسی ہیں اب تک وہ بھرتے بھرتے الفت کا مسالہ تھک چکا ہے مجھے لوٹا ضرورت کی یہاں ہر کمپنی نے مسلسل کرتے کرتے ...

مزید پڑھیے

بات بن جائے جو تفصیل سے باتیں کر لے

بات بن جائے جو تفصیل سے باتیں کر لے تشنگی میری اگر جھیل سے باتیں کر لے جہاں کے گاؤں سے تاریکی نکل سکتی ہے دل اگر فکر کی قندیل سے باتیں کر لے تو خریدار مرے دل کی زمیں کا ہے ٹھہر پہلے دل روح کی تحصیل سے باتیں کر لے کعبۂ دل تجھے محفوظ اگر رکھنا ہے جا کے الفت کی ابابیل سے باتیں کر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4323 سے 5858