شاعری

دل و نگاہ میں اس کو اگر نہیں رہنا

دل و نگاہ میں اس کو اگر نہیں رہنا شناسؔ مجھ کو بھی پھر در بدر نہیں رہنا اگر میں آؤں گا صدیوں کی عمر لاؤں گا کہ تیرے پاس مجھے مختصر نہیں رہنا یہ کائنات مری انگلیوں پہ ناچتی ہے مجھے ستاروں کے زیر اثر نہیں رہنا میں جانتا ہوں مگر دل کو کون سمجھائے شناسؔ اس کو مرا ہم سفر نہیں رہنا

مزید پڑھیے

لہو کی لہر میں اک خواب دل شکن بھی گیا

لہو کی لہر میں اک خواب دل شکن بھی گیا پھر اس کے ساتھ ہی آنکھیں گئیں بدن بھی گیا بدلتے وقت نے بدلے مزاج بھی کیسے تری ادا بھی گئی میرا بانکپن بھی گیا بس ایک بار وہ آیا تھا سیر کرنے کو پھر اس کے ساتھ ہی خوشبو گئی چمن بھی گیا بس اک تعلق بے نام ٹوٹنے کے بعد سخن تمام ہوا رشتۂ سخن بھی ...

مزید پڑھیے

میں یوں جہاں کے خواب سے تنہا گزر گیا

میں یوں جہاں کے خواب سے تنہا گزر گیا جیسے کہ ایک دشت سے دریا گزر گیا یوں جگمگا اٹھا ہے تری یاد سے وجود جیسے لہو سے کوئی ستارہ گزر گیا گزرا مرے قریب سے وہ اس ادا کے ساتھ رستے کو چھو کے جس طرح رستہ گزر گیا منظر میں گھل گئے ہیں دھنک کے تمام رنگ بے رنگ آئینے سے وہ لمحہ گزر گیا

مزید پڑھیے

دل تباہ کو اب تک نہیں یقیں آیا

دل تباہ کو اب تک نہیں یقیں آیا کہ شام بیت گئی اور تو نہیں آیا جہاں سے میں نے کیا تھا کبھی سفر آغاز میں خاک دھول ہوا لوٹ کر وہیں آیا وہ جس کے ہاتھ سے تقریب دل نمائی تھی ابھی وہ لمحۂ موجود میں نہیں آیا بس ایک بار مری نیند چھو گیا کوئی پھر اس کے بعد ہر اک خواب دل نشیں آیا بچھڑ کے ...

مزید پڑھیے

ہم ایک دن نکل آئے تھے خواب سے باہر

ہم ایک دن نکل آئے تھے خواب سے باہر سو ہم نے رنج اٹھائے حساب سے باہر اسی امید پہ گزری ہے زندگی ساری کبھی تو ہم سے ملوگے حجاب سے باہر تمہاری یاد نکلتی نہیں مرے دل سے نشہ چھلکتا نہیں ہے شراب سے باہر کسی کے دل میں اترنا ہے کار لا حاصل کہ ساری دھوپ تو ہے آفتاب سے باہر شناسؔ کھول ...

مزید پڑھیے

زمین پر نہ رہے آسماں کو چھوڑ دیا

زمین پر نہ رہے آسماں کو چھوڑ دیا تمہارے بعد زمان و مکاں کو چھوڑ دیا تباہ کر گیا اک لمحۂ خراب مجھے کہ میں نے حلقۂ آوارگاں کو چھوڑ دیا کہیں پناہ نہیں ملتی لمحہ بھر کے لیے کہ جب سے محفل دل دادگاں کو چھوڑ دیا بس ایک کنج خس و خاک میں سکون ملا سو میں نے حلقۂ سیارگاں کو چھوڑ ...

مزید پڑھیے

حسن الفاظ کے پیکر میں اگر آ سکتا

حسن الفاظ کے پیکر میں اگر آ سکتا کیسا ہوتا ہے خدا تم کو میں دکھلا سکتا اس سفر پہ ہوں کہ ہلکان ہوا جاتا ہوں اور کہاں جانا ہے یہ بھی نہیں بتلا سکتا ہارنا بھی ہے یقینی پہ مری فطرت ہے ایک ہی چال ہمیشہ نہیں دہرا سکتا زندگی اب تو مجھے اور کھلونے لا دے ایسے خوابوں سے تو میں دل نہیں ...

مزید پڑھیے

بھگت سنگھ کے نام

کہیں جب سرفروشی کی محبت استقامت کی شہادت کی وطن کی بات چلتی ہے مجھے تم یاد آتے ہو یہ دھارے رک نہیں سکتے ستارے جھک نہیں سکتے کنارے دیکھتے رہنا نظارے رک نہیں سکتے ہوا بہتی ہی رہتی ہے سمندر سے سمندر تک لہو دریافت کرتا ہے نئی تحریک کا منشور یہ کرنیں درج کرتی ہیں ہر اک دھرتی پہ ہونے کا ...

مزید پڑھیے

سبز رتوں میں قدیم گھروں کی خوشبو

جن گلیوں کا سورج رستہ بھول گیا ہو ان میں کسی بھی آہٹ کا کوئی گیت نہیں گونجا کرتا بوسیدہ دروازے کھڑکیاں بل کھاتے چوبی زینوں پر ناچتی رہتی ہے ویرانی گرد و غبار میں ڈوبے کمرے آپس میں باتیں کرتے ہیں بند دریچے سانپوں جیسی آنکھوں سے دور دراز کو جانے والی سبز رتوں کی یادوں میں روتے ...

مزید پڑھیے

وہ اور میں....

اس کو مرے خوابوں کا رستہ جانے کس نے دکھایا ہے میں جب آدھی رات کو تھک کر اپنے آپ پہ گرتا ہوں وہ چپکے سے آ جاتی ہے سبز سنہرے خواب لیے نرم گلابی ہاتھوں سے مرے بالوں کو سلجھاتی ہے دھیمے سروں میں فیضؔ کی نظم سناتی ہے میں اس کو دیکھتا رہتا ہوں نیند میں جاگتا رہتا ہوں اور وہ میرے بازو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4322 سے 5858