شاعری

استاد

نیک بچے دل سے کرتے ہیں ادب استاد کا باپ کی الفت سے بہتر ہے غضب استاد کا عام لوگوں کی جہالت دور کرنے کے لیے حق تعالی نے بنایا ہے سبب استاد کا اس کی برکت سے جہاں میں پھیلتی ہیں نیکیاں کیوں نہ پھر استاد سے راضی ہو رب استاد کا کچھ نہ کچھ عمدہ سبق دیتی ہے اس کی زندگی خلق سے خالی نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

جانے کیا سوچ کے اس نے ستم ایجاد کیا

جانے کیا سوچ کے اس نے ستم ایجاد کیا خود بھی برباد ہوا مجھ کو بھی برباد کیا شمع کی طرح جلے ہم تری محفل میں مگر تو نے کس وقت ہمیں کون سی شب یاد کیا جنبش لب کی اجازت ہے نہ اذن پرواز کس لئے تو نے مجھے قید سے آزاد کیا شکر ہے تو نے مجھے درد کے قابل سمجھا تیری پیماں شکنی نے مرا دل شاد ...

مزید پڑھیے

دل جس کا درد عشق کا حامل نہیں رہا

دل جس کا درد عشق کا حامل نہیں رہا وہ شخص تیرے پیار کے قابل نہیں رہا جب بھی حنائی ہاتھوں سے گیسو سنور گئے آئینۂ بہار مقابل نہیں رہا ہر آستاں سے لوٹ کے آنا پڑا اسے جو تیرے در پہ آنے کے قابل نہیں رہا محرومیاں ہی جس کا مقدر ہیں دوستو وہ محفل نشاط کے قابل نہیں رہا جب تم نہ تھے تو کچھ ...

مزید پڑھیے

جب تک مزاج دوست میں کچھ برہمی رہی

جب تک مزاج دوست میں کچھ برہمی رہی گویا بجھی بجھی سی مری زندگی رہی جس پر نگاہ لطف و کرم آپ کی رہی حیرت سے ہر نگاہ اسے دیکھتی رہی گو میں رہا کشاکش دوراں سے ہم کنار لیکن مرے لبوں پہ ہنسی کھیلتی رہی لایا ہے عشق نے مجھے ایسے مقام پر خود آگہی رہی نہ خدا آگہی رہی جوش جنوں نے منزل ...

مزید پڑھیے

اے دل اچھا نہیں مصروف فغاں ہو جانا

اے دل اچھا نہیں مصروف فغاں ہو جانا غم کی توہین ہے اشکوں کا رواں ہو جانا دل کی آواز بھی مجروح جہاں ہوتی ہے ایسے حالات میں خاموش وہاں ہو جانا میرے آنسو جو گریں ٹانک لو تم جوڑے میں دیکھ لے کوئی تو پھولوں کا گماں ہو جانا اہل ساحل کو بھی اندازۂ طوفاں ہو جائے قطرۂ اشک ذرا سیل رواں ہو ...

مزید پڑھیے

یہ جو لاہور سے محبت ہے

یہ جو لاہور سے محبت ہے یہ کسی اور سے محبت ہے اور وہ اور تم نہیں شاید مجھ کو جس اور سے محبت ہے یہ ہوں میں اور یہ مری تصویر دیکھ لے غور سے محبت ہے بچپنا کمسنی جوانی آج تیرے ہر دور سے محبت ہے ایک تہذیب ہے مجھے مقصود مجھ کو اک دور سے محبت ہے اس کی ہر طرز مجھ کو بھاتی ہے اس کے ہر طور ...

مزید پڑھیے

بالکل تم سا اور تمہارا لگتا ہوں (ردیف .. ا)

بالکل تم سا اور تمہارا لگتا ہوں کبھی کبھی میں خود کو پیارا لگتا ہوں ایک نظر اس حور نے مجھ کو دیکھا تھا خود کو میں اب ایک ستارا لگتا ہوں جتنا آپ جتاتی ہیں ہر میسج میں کیا میں آپ کو اتنا پیارا لگتا ہوں شاید میری جیت اسی میں ہوتی ہے اس کے آگے ہارا ہارا لگتا ہوں میرا شعر چرا کر تم ...

مزید پڑھیے

گھر سے تمہاری دی ہوئی چیزیں نکال دیں

گھر سے تمہاری دی ہوئی چیزیں نکال دیں جیسے خود اپنے جسم سے سانسیں نکال دیں دیکھا بس اک دفعہ اسے میں نے قریب سے پھر اہل شہر نے مری آنکھیں نکال دیں حیرت ہے اس نے قید بھی خود ہی کیا مجھے پھر خود مرے فرار کی راہیں نکال دیں کچھ اس نے بھی سہیلیوں کے منہ سے سن لیا کچھ میرے دوستوں نے بھی ...

مزید پڑھیے

دیوانہ پن اور بیکاری ملتی ہے

دیوانہ پن اور بیکاری ملتی ہے عشق میں اکثر ایسی خواری ملتی ہے لوگ پتہ ہے کیوں اتنے دیوانے ہیں اک ماڈل سے شکل تمہاری ملتی ہے کبھی کبھی تو شعر بھی ہونے لگتے ہیں دل کی چوٹ سے خوش گفتاری ملتی ہے لائف نہیں ہے بیڈ آف روزز یاد رکھو رستہ چلتے سو دشواری ملتی ہے اور کسی سے ملتی ہے وہ ...

مزید پڑھیے

روتی ہوئی آنکھوں کا وہ منظر نہیں دیکھا

روتی ہوئی آنکھوں کا وہ منظر نہیں دیکھا چھوڑ آئے تو پھر ہم نے پلٹ کر نہیں دیکھا کچھ وہ بھی سمجھنے کا تکلف نہیں کرتے کچھ ہم نے زباں سے کبھی کہہ کر نہیں دیکھا شاید اسی کم یاب کو کہتے ہیں تبسم ہم نے ترے چہرے پہ جو اکثر نہیں دیکھا ہم حسن بہ انداز حسیں دیکھنے والے سچ بات ہے تجھ سا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4315 سے 5858