ابد
یہ کیسی لذت سے جسم شل ہو رہا ہے میرا یہ کیا مزا ہے کہ جس سے ہے عضو عضو بوجھل یہ کیف کیا ہے کہ سانس رک رک کے آ رہا ہے یہ میری آنکھوں میں کیسے شہوت بھرے اندھیرے اتر رہے ہیں لہو کے گنبد میں کوئی در ہے کہ وا ہوا ہے یہ چھوٹتی نبض، رکتی دھڑکن، یہ ہچکیاں سی گلاب و کافور کی لپٹ تیز ہو گئی ...