شاعری

ابد

یہ کیسی لذت سے جسم شل ہو رہا ہے میرا یہ کیا مزا ہے کہ جس سے ہے عضو عضو بوجھل یہ کیف کیا ہے کہ سانس رک رک کے آ رہا ہے یہ میری آنکھوں میں کیسے شہوت بھرے اندھیرے اتر رہے ہیں لہو کے گنبد میں کوئی در ہے کہ وا ہوا ہے یہ چھوٹتی نبض، رکتی دھڑکن، یہ ہچکیاں سی گلاب و کافور کی لپٹ تیز ہو گئی ...

مزید پڑھیے

انقلابی عورت

رن بھومی میں لڑتے لڑتے میں نے کتنے سال اک دن جل میں چھایا دیکھی چٹے ہو گئے بال پاپڑ جیسی ہوئیں ہڈیاں جلنے لگے ہیں دانت جگہ جگہ جھریوں سے بھر گئی سارے تن کی کھال دیکھ کے اپنا حال ہوا پھر اس کو بہت ملال ارے میں بڑھیا ہو جاؤں گی آیا نہ تھا خیال اس نے سوچا گر پھر سے مل جائے جوانی جس کو ...

مزید پڑھیے

اپنے دوست کے لیے

یہ زرد موسم کے خشک پتے ہوا جنہیں لے گئی اڑا کر اگر کبھی ان کو دیکھ پاؤ تو سوچ لینا کہ ان میں ہر برگ کی نمو میں زیاں گیا عرق شاخ گل کا کبھی یہ سرسبز کونپلیں تھے کبھی یہ شاداب بھی رہے ہیں کھلے ہوئے ہونٹ کی طرح نرم اور شگفتہ بہت دنوں تک یہ سبز پتے ہوا کے ریلوں میں بے بسی سے تڑپ چکے ...

مزید پڑھیے

جاپ

آ مرے اندر آ پوتر مہران کے پانی ٹھنڈے میٹھے مٹیالے پانی مٹیالے جیون رنگ جل دھو دے سارا کرودھ کپٹ شہروں کی دشاؤں کا سب چھل یوں سینچ مجھے کر دے میری مٹی جل تھل ترے تل کی کالی چکنی مٹی سے ماتھے پر تلک لگاؤں ہاتھ جوڑ ڈنڈوت کروں او من کے بھید سے گہرے ہولے ہولے سانس کھینچتے اوم سمان ...

مزید پڑھیے

تم بالکل ہم جیسے نکلے

تم بالکل ہم جیسے نکلے اب تک کہاں چھپے تھے بھائی وہ مورکھتا وہ گھامڑ پن جس میں ہم نے صدی گنوائی آخر پہنچی دوار توہارے ارے بدھائی بہت بدھائی پریت دھرم کا ناچ رہا ہے قائم ہندو راج کرو گے سارے الٹے کاج کرو گے اپنا چمن تاراج کرو گے تم بھی بیٹھے کرو گے سوچا پوری ہے ویسی تیاری کون ہے ...

مزید پڑھیے

پچھتاوا

خدائے ہر دوجہاں نے جب آدمی کو پہلے پہل سزا دی بہشت سے جب اسے نکالا تو اس کو بخشا گیا یہ ساتھی یہ ایسا ساتھی ہے جو ہمیشہ ہی آدمی کے قریں رہا ہے تمام ادوار چھان ڈالو روایتوں میں حکایتوں میں ازل سے تاریخ کہہ رہی ہے کہ آدمی کی جبیں ہمیشہ ندامتوں سے عرق رہی ہے وہ وقت جب سے کہ آدمی نے خدا ...

مزید پڑھیے

مقابلۂ حسن

کولھوں میں بھنور جو ہیں تو کیا ہے سر میں بھی ہے جستجو کا جوہر تھا پارۂ دل بھی زیر پستاں لیکن مرا مول ہے جو ان پر گھبرا کے نہ یوں گریز پا ہو پیمائش میری ختم ہو جب اپنا بھی کوئی عضو ناپو!

مزید پڑھیے

ایک رات کی کہانی

بڑی سہانی سی رات تھی وہ ہوا میں انجانی کھوئی کھوئی مہک رچی تھی بہار کی خوش گوار حدت سے رات گلنار ہو رہی تھی روپہلے سپنے سے آسماں پر سحاب بن کر بکھر گئے تھے اور ایسی اک رات ایک آنگن میں کوئی لڑکی کھڑی ہوئی تھی خموش تنہا وہ اپنی نازک حسین سوچوں کے شہر میں کھو کے رہ گئی تھی دھنک کے ...

مزید پڑھیے

باکرہ

آسماں تپتے ہوئے لوہے کی مانند سفید ریگ سوکھی ہوئی پیاسے کی زباں کی مانند پیاس حلقوم میں ہے جسم میں ہے جان میں ہے سر بہ زانو ہوں جھلستے ہوئے ریگستاں میں تیری سرکار میں لے آئی ہوں یہ وحش ذبیح! مجھ پہ لازم تھی جو قربانی وہ میں نے کر دی اس کی ابلی ہوئی آنکھوں میں ابھی تک ہے چمک اور ...

مزید پڑھیے

تہنیت

کتنے بخت والے ہو زندگی میں جو چاہا تم نے پا لیا آخر عزم اور ہمت سے فہم سے ذکاوت سے ہے تمہارے دامن میں پھول کامرانی کا اور تمہارے ماتھے پر فخر کا ستارہ ہے اب تمہارے چہرے پر ایسی شادمانی ہے کوئی کہہ نہیں سکتا درد سے بھی واقف ہو اور تمہارے پاؤں میں دیر سے کھٹکتا ہے آرزو کا اک کانٹا جس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4311 سے 5858