شاعری

نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا

نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو تن داغ داغ لٹا دیا مرے چارہ گر کو نوید ہو صف دشمناں کو خبر کرو جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا کرو کج جبیں پہ سر کفن مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو کہ غرور عشق کا بانکپن پس مرگ ہم نے بھلا دیا ادھر ایک حرف کہ ...

مزید پڑھیے

چاند نکلے کسی جانب تری زیبائی کا

چاند نکلے کسی جانب تری زیبائی کا رنگ بدلے کسی صورت شب تنہائی کا دولت لب سے پھر اے خسرو شیریں دہناں آج ارزاں ہو کوئی حرف شناسائی کا گرمئی رشک سے ہر انجمن گل بدناں تذکرہ چھیڑے تری پیرہن آرائی کا صحن گلشن میں کبھی اے شہ شمشاد قداں پھر نظر آئے سلیقہ تری رعنائی کا ایک بار اور ...

مزید پڑھیے

رنگ پیراہن کا خوشبو زلف لہرانے کا نام

رنگ پیراہن کا خوشبو زلف لہرانے کا نام موسم گل ہے تمہارے بام پر آنے کا نام دوستو اس چشم و لب کی کچھ کہو جس کے بغیر گلستاں کی بات رنگیں ہے نہ مے خانے کا نام پھر نظر میں پھول مہکے دل میں پھر شمعیں جلیں پھر تصور نے لیا اس بزم میں جانے کا نام دلبری ٹھہرا زبان خلق کھلوانے کا نام اب ...

مزید پڑھیے

ہمت التجا نہیں باقی

ہمت التجا نہیں باقی ضبط کا حوصلہ نہیں باقی اک تری دید چھن گئی مجھ سے ورنہ دنیا میں کیا نہیں باقی اپنی مشق ستم سے ہاتھ نہ کھینچ میں نہیں یا وفا نہیں باقی تیری چشم الم نواز کی خیر دل میں کوئی گلا نہیں باقی ہو چکا ختم عہد ہجر و وصال زندگی میں مزا نہیں باقی

مزید پڑھیے

گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے

گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو کہیں تو بہر خدا آج ذکر یار چلے کبھی تو صبح ترے کنج لب سے ہو آغاز کبھی تو شب سر کاکل سے مشکبار چلے بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہی تمہارے نام پہ آئیں گے غم گسار چلے جو ہم پہ ...

مزید پڑھیے

دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں

دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں جیسے بچھڑے ہوئے کعبہ میں صنم آتے ہیں ایک اک کر کے ہوئے جاتے ہیں تارے روشن میری منزل کی طرف تیرے قدم آتے ہیں رقص مے تیز کرو ساز کی لے تیز کرو سوئے مے خانہ سفیران حرم آتے ہیں کچھ ہمیں کو نہیں احسان اٹھانے کا دماغ وہ تو جب آتے ہیں مائل بہ کرم ...

مزید پڑھیے

ہم نے سب شعر میں سنوارے تھے

ہم نے سب شعر میں سنوارے تھے ہم سے جتنے سخن تمہارے تھے رنگ و خوشبو کے حسن و خوبی کے تم سے تھے جتنے استعارے تھے تیرے قول و قرار سے پہلے اپنے کچھ اور بھی سہارے تھے جب وہ لعل و گہر حساب کیے جو ترے غم نے دل پہ وارے تھے میرے دامن میں آ گرے سارے جتنے طشت فلک میں تارے تھے عمر جاوید کی ...

مزید پڑھیے

یوں سجا چاند کہ جھلکا ترے انداز کا رنگ

یوں سجا چاند کہ جھلکا ترے انداز کا رنگ یوں فضا مہکی کہ بدلا مرے ہم راز کا رنگ سایۂ چشم میں حیراں رخ روشن کا جمال سرخیٔ لب میں پریشاں تری آواز کا رنگ بے پیے ہوں کہ اگر لطف کرو آخر شب شیشۂ مے میں ڈھلے صبح کے آغاز کا رنگ چنگ و نے رنگ پہ تھے اپنے لہو کے دم سے دل نے لے بدلی تو مدھم ہوا ...

مزید پڑھیے

قرض نگاہ یار ادا کر چکے ہیں ہم

قرض نگاہ یار ادا کر چکے ہیں ہم سب کچھ نثار راہ وفا کر چکے ہیں ہم کچھ امتحان دست جفا کر چکے ہیں ہم کچھ ان کی دسترس کا پتا کر چکے ہیں ہم اب احتیاط کی کوئی صورت نہیں رہی قاتل سے رسم و راہ سوا کر چکے ہیں ہم دیکھیں ہے کون کون ضرورت نہیں رہی کوئے ستم میں سب کو خفا کر چکے ہیں ہم اب اپنا ...

مزید پڑھیے

کچھ محتسبوں کی خلوت میں کچھ واعظ کے گھر جاتی ہے

کچھ محتسبوں کی خلوت میں کچھ واعظ کے گھر جاتی ہے ہم بادہ کشوں کے حصے کی اب جام میں کم تر جاتی ہے یوں عرض و طلب سے کم اے دل پتھر دل پانی ہوتے ہیں تم لاکھ رضا کی خو ڈالو کب خوئے ستم گر جاتی ہے بیداد گروں کی بستی ہے یاں داد کہاں خیرات کہاں سر پھوڑتی پھرتی ہے ناداں فریاد جو در در جاتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4301 سے 5858