شاعری

بات بس سے نکل چلی ہے

بات بس سے نکل چلی ہے دل کی حالت سنبھل چلی ہے اب جنوں حد سے بڑھ چلا ہے اب طبیعت بہل چلی ہے اشک خوناب ہو چلے ہیں غم کی رنگت بدل چلی ہے یا یوں ہی بجھ رہی ہیں شمعیں یا شب ہجر ٹل چلی ہے لاکھ پیغام ہو گئے ہیں جب صبا ایک پل چلی ہے جاؤ اب سو رہو ستارو درد کی رات ڈھل چلی ہے

مزید پڑھیے

دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے

دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے ویراں ہے مے کدہ خم و ساغر اداس ہیں تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے اک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دن دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے بھولے سے ...

مزید پڑھیے

اب جو کوئی پوچھے بھی تو اس سے کیا شرح حالات کریں

اب جو کوئی پوچھے بھی تو اس سے کیا شرح حالات کریں دل ٹھہرے تو درد سنائیں درد تھمے تو بات کریں شام ہوئی پھر جوش قدح نے بزم حریفاں روشن کی گھر کو آگ لگائیں ہم بھی روشن اپنی رات کریں قتل دل و جاں اپنے سر ہے اپنا لہو اپنی گردن پہ مہر بہ لب بیٹھے ہیں کس کا شکوہ کس کے ساتھ کریں ہجر میں ...

مزید پڑھیے

تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں

تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں حدیث یار کے عنواں نکھرنے لگتے ہیں تو ہر حریم میں گیسو سنورنے لگتے ہیں ہر اجنبی ہمیں محرم دکھائی دیتا ہے جو اب بھی تیری گلی سے گزرنے لگتے ہیں صبا سے کرتے ہیں غربت نصیب ذکر وطن تو چشم صبح میں آنسو ابھرنے لگتے ...

مزید پڑھیے

ہر حقیقت مجاز ہو جائے

ہر حقیقت مجاز ہو جائے کافروں کی نماز ہو جائے دل رہین نیاز ہو جائے بیکسی کارساز ہو جائے منت چارہ ساز کون کرے درد جب جاں نواز ہو جائے عشق دل میں رہے تو رسوا ہو لب پہ آئے تو راز ہو جائے لطف کا انتظار کرتا ہوں جور تا حد ناز ہو جائے عمر بے سود کٹ رہی ہے فیضؔ کاش افشائے راز ہو جائے

مزید پڑھیے

کبھی کبھی یاد میں ابھرتے ہیں نقش ماضی مٹے مٹے سے

کبھی کبھی یاد میں ابھرتے ہیں نقش ماضی مٹے مٹے سے وہ آزمائش دل و نظر کی وہ قربتیں سی وہ فاصلے سے کبھی کبھی آرزو کے صحرا میں آ کے رکتے ہیں قافلے سے وہ ساری باتیں لگاؤ کی سی وہ سارے عنواں وصال کے سے نگاہ و دل کو قرار کیسا نشاط و غم میں کمی کہاں کی وہ جب ملے ہیں تو ان سے ہر بار کی ہے ...

مزید پڑھیے

''آپ کی یاد آتی رہی رات بھر'' (ردیف .. ر)

''آپ کی یاد آتی رہی رات بھر'' چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر گاہ جلتی ہوئی گاہ بجھتی ہوئی شمع غم جھلملاتی رہی رات بھر کوئی خوشبو بدلتی رہی پیرہن کوئی تصویر گاتی رہی رات بھر پھر صبا سایۂ شاخ گل کے تلے کوئی قصہ سناتی رہی رات بھر جو نہ آیا اسے کوئی زنجیر در ہر صدا پر بلاتی رہی رات ...

مزید پڑھیے

رہ خزاں میں تلاش بہار کرتے رہے

رہ خزاں میں تلاش بہار کرتے رہے شب سیہ سے طلب حسن یار کرتے رہے خیال یار کبھی ذکر یار کرتے رہے اسی متاع پہ ہم روزگار کرتے رہے نہیں شکایت ہجراں کہ اس وسیلے سے ہم ان سے رشتۂ دل استوار کرتے رہے وہ دن کہ کوئی بھی جب وجہ انتظار نہ تھی ہم ان میں تیرا سوا انتظار کرتے رہے ہم اپنے راز پہ ...

مزید پڑھیے

عداوتوں میں جو خلق خدا لگی ہوئی ہے

عداوتوں میں جو خلق خدا لگی ہوئی ہے محبتوں کو کوئی بد دعا لگی ہوئی ہے پناہ دیتی ہے ہم کو نشے کی بے خبری ہمارے بیچ خبر کی بلا لگی ہوئی ہے کمال ہے نظر انداز کرنا دریا کو اگرچہ پیاس بھی بے انتہا لگی ہوئی ہے پلک جھپکتے ہی خواہش نے کینوس بدلا تلاش کرنے میں چہرہ نیا لگی ہوئی ہے تو ...

مزید پڑھیے

حرف اپنے ہی معانی کی طرح ہوتا ہے

حرف اپنے ہی معانی کی طرح ہوتا ہے پیاس کا ذائقہ پانی کی طرح ہوتا ہے میں بھی رکتا ہوں مگر ریگ رواں کی صورت میرا ٹھہراؤ روانی کی طرح ہوتا ہے تیرے جاتے ہی میں شکنوں سے نہ بھر جاؤں کہیں کیوں جدا مجھ سے جوانی کی طرح ہوتا ہے جسم تھکتا نہیں چلنے سے کہ وحشت کا سفر خواب میں نقل مکانی کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4302 سے 5858