شاعری

اب کے برس دستور ستم میں کیا کیا باب ایزاد ہوئے

اب کے برس دستور ستم میں کیا کیا باب ایزاد ہوئے جو قاتل تھے مقتول ہوئے جو صید تھے اب صیاد ہوئے پہلے بھی خزاں میں باغ اجڑے پر یوں نہیں جیسے اب کے برس سارے بوٹے پتہ پتہ روش روش برباد ہوئے پہلے بھی طواف شمع وفا تھی رسم محبت والوں کی ہم تم سے پہلے بھی یہاں منصورؔ ہوئے فرہادؔ ہوئے اک ...

مزید پڑھیے

شام فراق اب نہ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئی

شام فراق اب نہ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئی دل تھا کہ پھر بہل گیا جاں تھی کہ پھر سنبھل گئی بزم خیال میں ترے حسن کی شمع جل گئی درد کا چاند بجھ گیا ہجر کی رات ڈھل گئی جب تجھے یاد کر لیا صبح مہک مہک اٹھی جب ترا غم جگا لیا رات مچل مچل گئی دل سے تو ہر معاملہ کر کے چلے تھے صاف ہم کہنے میں ان ...

مزید پڑھیے

کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگی

کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگی سنتے تھے وہ آئیں گے سنتے تھے سحر ہوگی کب جان لہو ہوگی کب اشک گہر ہوگا کس دن تری شنوائی اے دیدۂ تر ہوگی کب مہکے گی فصل گل کب بہکے گا مے خانہ کب صبح سخن ہوگی کب شام نظر ہوگی واعظ ہے نہ زاہد ہے ناصح ہے نہ قاتل ہے اب شہر میں یاروں کی کس طرح بسر ...

مزید پڑھیے

کب تک دل کی خیر منائیں کب تک رہ دکھلاؤ گے

کب تک دل کی خیر منائیں کب تک رہ دکھلاؤ گے کب تک چین کی مہلت دو گے کب تک یاد نہ آؤ گے بیتا دید امید کا موسم خاک اڑتی ہے آنکھوں میں کب بھیجو گے درد کا بادل کب برکھا برساؤ گے عہد وفا یا ترک محبت جو چاہو سو آپ کرو اپنے بس کی بات ہی کیا ہے ہم سے کیا منواؤ گے کس نے وصل کا سورج دیکھا کس پر ...

مزید پڑھیے

اب وہی حرف جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے

اب وہی حرف جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے جو بھی چل نکلی ہے وہ بات کہاں ٹھہری ہے آج تک شیخ کے اکرام میں جو شے تھی حرام اب وہی دشمن دیں راحت جاں ٹھہری ہے ہے خبر گرم کہ پھرتا ہے گریزاں ناصح گفتگو آج سر کوئے بتاں ٹھہری ہے ہے وہی عارض لیلیٰ وہی شیریں کا دہن نگہ شوق گھڑی بھر کو جہاں ٹھہری ...

مزید پڑھیے

گرمئ شوق نظارہ کا اثر تو دیکھو

گرمئ شوق نظارہ کا اثر تو دیکھو گل کھلے جاتے ہیں وہ سایۂ تر تو دیکھو ایسے ناداں بھی نہ تھے جاں سے گزرنے والے ناصحو پند گرو راہ گزر تو دیکھو وہ تو وہ ہے تمہیں ہو جائے گی الفت مجھ سے اک نظر تم مرے محبوب نظر تو دیکھو وہ جو اب چاک گریباں بھی نہیں کرتے ہیں دیکھنے والو کبھی ان کا جگر ...

مزید پڑھیے

ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے

ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے دشنام تو نہیں ہے یہ اکرام ہی تو ہے کرتے ہیں جس پہ طعن کوئی جرم تو نہیں شوق فضول و الفت ناکام ہی تو ہے دل مدعی کے حرف ملامت سے شاد ہے اے جان جاں یہ حرف ترا نام ہی تو ہے دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے دست فلک میں ...

مزید پڑھیے

ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ترے جاں نثار چلے گئے

ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ترے جاں نثار چلے گئے تری رہ میں کرتے تھے سر طلب سر رہ گزار چلے گئے تری کج ادائی سے ہار کے شب انتظار چلی گئی مرے ضبط حال سے روٹھ کر مرے غم گسار چلے گئے نہ سوال وصل نہ عرض غم نہ حکایتیں نہ شکایتیں ترے عہد میں دل زار کے سبھی اختیار چلے گئے یہ ہمیں تھے جن کے ...

مزید پڑھیے

تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہے

تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہے تلاش میں ہے سحر بار بار گزری ہے جنوں میں جتنی بھی گزری بکار گزری ہے اگرچہ دل پہ خرابی ہزار گزری ہے ہوئی ہے حضرت ناصح سے گفتگو جس شب وہ شب ضرور سر کوئے یار گزری ہے وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا وہ بات ان کو بہت نا گوار گزری ہے نہ گل کھلے ہیں ...

مزید پڑھیے

راز الفت چھپا کے دیکھ لیا

راز الفت چھپا کے دیکھ لیا دل بہت کچھ جلا کے دیکھ لیا اور کیا دیکھنے کو باقی ہے آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا وہ مرے ہو کے بھی مرے نہ ہوئے ان کو اپنا بنا کے دیکھ لیا آج ان کی نظر میں کچھ ہم نے سب کی نظریں بچا کے دیکھ لیا فیضؔ تکمیل غم بھی ہو نہ سکی عشق کو آزما کے دیکھ لیا

مزید پڑھیے
صفحہ 4300 سے 5858