شاعری

تری امید ترا انتظار جب سے ہے

تری امید ترا انتظار جب سے ہے نہ شب کو دن سے شکایت نہ دن کو شب سے ہے کسی کا درد ہو کرتے ہیں تیرے نام رقم گلہ ہے جو بھی کسی سے ترے سبب سے ہے ہوا ہے جب سے دل ناصبور بے قابو کلام تجھ سے نظر کو بڑے ادب سے ہے اگر شرر ہے تو بھڑکے جو پھول ہے تو کھلے طرح طرح کی طلب تیرے رنگ لب سے ہے کہاں گئے ...

مزید پڑھیے

یہ کس خلش نے پھر اس دل میں آشیانہ کیا

یہ کس خلش نے پھر اس دل میں آشیانہ کیا پھر آج کس نے سخن ہم سے غائبانہ کیا غم جہاں ہو رخ یار ہو کہ دست عدو سلوک جس سے کیا ہم نے عاشقانہ کیا تھے خاک راہ بھی ہم لوگ قہر طوفاں بھی سہا تو کیا نہ سہا اور کیا تو کیا نہ کیا خوشا کہ آج ہر اک مدعی کے لب پر ہے وہ راز جس نے ہمیں راندۂ زمانہ ...

مزید پڑھیے

وفائے وعدہ نہیں وعدۂ دگر بھی نہیں

وفائے وعدہ نہیں وعدۂ دگر بھی نہیں وہ مجھ سے روٹھے تو تھے لیکن اس قدر بھی نہیں برس رہی ہے حریم ہوس میں دولت حسن گدائے عشق کے کاسے میں اک نظر بھی نہیں نہ جانے کس لیے امیدوار بیٹھا ہوں اک ایسی راہ پہ جو تیری رہ گزر بھی نہیں نگاہ شوق سر بزم بے حجاب نہ ہو وہ بے خبر ہی سہی اتنے بے خبر ...

مزید پڑھیے

آج یوں موج در موج غم تھم گیا اس طرح غم زدوں کو قرار آ گیا

آج یوں موج در موج غم تھم گیا اس طرح غم زدوں کو قرار آ گیا جیسے خوشبوئے زلف بہار آ گئی جیسے پیغام دیدار یار آ گیا جس کی دید و طلب وہم سمجھے تھے ہم رو بہ رو پھر سر رہ گزار آ گیا صبح فردا کو پھر دل ترسنے لگا عمر رفتہ ترا اعتبار آ گیا رت بدلنے لگی رنگ دل دیکھنا رنگ گلشن سے اب حال کھلتا ...

مزید پڑھیے

وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوف خدا گیا

وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوف خدا گیا وہ پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیال روز جزا گیا جو نفس تھا خار گلو بنا جو اٹھے تھے ہاتھ لہو ہوئے وہ نشاط آہ سحر گئی وہ وقار دست دعا گیا نہ وہ رنگ فصل بہار کا نہ روش وہ ابر بہار کی جس ادا سے یار تھے آشنا وہ مزاج باد صبا گیا جو طلب پہ عہد ...

مزید پڑھیے

ہم مسافر یوں ہی مصروف سفر جائیں گے

ہم مسافر یوں ہی مصروف سفر جائیں گے بے نشاں ہو گئے جب شہر تو گھر جائیں گے کس قدر ہوگا یہاں مہر و وفا کا ماتم ہم تری یاد سے جس روز اتر جائیں گے جوہری بند کئے جاتے ہیں بازار سخن ہم کسے بیچنے الماس و گہر جائیں گے نعمت زیست کا یہ قرض چکے گا کیسے لاکھ گھبرا کے یہ کہتے رہیں مر جائیں ...

مزید پڑھیے

پھر حریف بہار ہو بیٹھے

پھر حریف بہار ہو بیٹھے جانے کس کس کو آج رو بیٹھے تھی مگر اتنی رائیگاں بھی نہ تھی آج کچھ زندگی سے کھو بیٹھے تیرے در تک پہنچ کے لوٹ آئے عشق کی آبرو ڈبو بیٹھے ساری دنیا سے دور ہو جائے جو ذرا تیرے پاس ہو بیٹھے نہ گئی تیری بے رخی نہ گئی ہم تری آرزو بھی کھو بیٹھے فیضؔ ہوتا رہے جو ...

مزید پڑھیے

گو سب کو بہم ساغر و بادہ تو نہیں تھا

گو سب کو بہم ساغر و بادہ تو نہیں تھا یہ شہر اداس اتنا زیادہ تو نہیں تھا گلیوں میں پھرا کرتے تھے دو چار دوانے ہر شخص کا صد چاک لبادہ تو نہیں تھا منزل کو نہ پہچانے رہ عشق کا راہی ناداں ہی سہی ایسا بھی سادہ تو نہیں تھا تھک کر یوں ہی پل بھر کے لیے آنکھ لگی تھی سو کر ہی نہ اٹھیں یہ ...

مزید پڑھیے

سب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیں

سب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیں ہم لوگ سرخ رو ہیں کہ منزل سے آئے ہیں شمع نظر خیال کے انجم جگر کے داغ جتنے چراغ ہیں تری محفل سے آئے ہیں اٹھ کر تو آ گئے ہیں تری بزم سے مگر کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے آئے ہیں ہر اک قدم اجل تھا ہر اک گام زندگی ہم گھوم پھر کے کوچۂ قاتل سے آئے ...

مزید پڑھیے

شیخ صاحب سے رسم و راہ نہ کی

شیخ صاحب سے رسم و راہ نہ کی شکر ہے زندگی تباہ نہ کی تجھ کو دیکھا تو سیر چشم ہوئے تجھ کو چاہا تو اور چاہ نہ کی تیرے دست ستم کا عجز نہیں دل ہی کافر تھا جس نے آہ نہ کی تھے شب ہجر کام اور بہت ہم نے فکر دل تباہ نہ کی کون قاتل بچا ہے شہر میں فیضؔ جس سے یاروں نے رسم و راہ نہ کی

مزید پڑھیے
صفحہ 4299 سے 5858