شاعری

دو عشق

(1) تازہ ہیں ابھی یاد میں اے ساقیٔ گلفام وہ عکس رخ یار سے لہکے ہوئے ایام وہ پھول سی کھلتی ہوئی دیدار کی ساعت وہ دل سا دھڑکتا ہوا امید کا ہنگام امید کہ لو جاگا غم دل کا نصیبہ لو شوق کی ترسی ہوئی شب ہو گئی آخر لو ڈوب گئے درد کے بے خواب ستارے اب چمکے گا بے صبر نگاہوں کا مقدر اس بام سے ...

مزید پڑھیے

بول

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے بول زباں اب تک تیری ہے تیرا ستواں جسم ہے تیرا بول کہ جاں اب تک تیری ہے دیکھ کہ آہن گر کی دکاں میں تند ہیں شعلے سرخ ہے آہن کھلنے لگے قفلوں کے دہانے پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن بول یہ تھوڑا وقت بہت ہے جسم و زباں کی موت سے پہلے بول کہ سچ زندہ ہے اب تک بول جو کچھ ...

مزید پڑھیے

نثار میں تیری گلیوں کے

نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے نظر چرا کے چلے جسم و جاں بچا کے چلے ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظم بست و کشاد کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد بہت ہے ظلم کے دست بہانہ جو کے لیے جو چند اہل جنوں تیرے نام لیوا ہیں بنے ...

مزید پڑھیے

آج بازار میں پا بہ جولاں چلو

چشم نم جان شوریدہ کافی نہیں تہمت عشق پوشیدہ کافی نہیں آج بازار میں پا بہ جولاں چلو دست افشاں چلو مست و رقصاں چلو خاک بر سر چلو خوں بداماں چلو راہ تکتا ہے سب شہر جاناں چلو حاکم شہر بھی مجمع عام بھی تیر الزام بھی سنگ دشنام بھی صبح ناشاد بھی روز ناکام بھی ان کا دم ساز اپنے سوا کون ...

مزید پڑھیے

سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا سبھی راحتیں سبھی کلفتیں

سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا سبھی راحتیں سبھی کلفتیں کبھی صحبتیں کبھی فرقتیں کبھی دوریاں کبھی قربتیں یہ سخن جو ہم نے رقم کیے یہ ہیں سب ورق تری یاد کے کوئی لمحہ صبح وصال کا کوئی شام ہجر کی مدتیں جو تمہاری مان لیں ناصحا تو رہے گا دامن دل میں کیا نہ کسی عدو کی عداوتیں نہ کسی صنم کی ...

مزید پڑھیے

دربار میں اب سطوت شاہی کی علامت (ردیف .. ے)

دربار میں اب سطوت شاہی کی علامت درباں کا عصا ہے کہ مصنف کا قلم ہے آوارہ ہے پھر کوہ ندا پر جو بشارت تمہید مسرت ہے کہ طول شب غم ہے جس دھجی کو گلیوں میں لیے پھرتے ہیں طفلاں یہ میرا گریباں ہے کہ لشکر کا علم ہے جس نور سے ہے شہر کی دیوار درخشاں یہ خون شہیداں ہے کہ زر خانۂ جم ہے حلقہ ...

مزید پڑھیے

نہ اب رقیب نہ ناصح نہ غم گسار کوئی (ردیف .. ا)

نہ اب رقیب نہ ناصح نہ غم گسار کوئی تم آشنا تھے تو تھیں آشنائیاں کیا کیا جدا تھے ہم تو میسر تھیں قربتیں کتنی بہم ہوئے تو پڑی ہیں جدائیاں کیا کیا پہنچ کے در پہ ترے کتنے معتبر ٹھہرے اگرچہ رہ میں ہوئیں جگ ہنسائیاں کیا کیا ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز مندی سے بتوں نے کی ہیں جہاں میں ...

مزید پڑھیے

ہمیں سے اپنی نوا ہم کلام ہوتی رہی

ہمیں سے اپنی نوا ہم کلام ہوتی رہی یہ تیغ اپنے لہو میں نیام ہوتی رہی مقابل صف اعدا جسے کیا آغاز وہ جنگ اپنے ہی دل میں تمام ہوتی رہی کوئی مسیحا نہ ایفائے عہد کو پہنچا بہت تلاش پس قتل عام ہوتی رہی یہ برہمن کا کرم وہ عطائے شیخ حرم کبھی حیات کبھی مے حرام ہوتی رہی جو کچھ بھی بن نہ ...

مزید پڑھیے

چشم میگوں ذرا ادھر کر دے

چشم میگوں ذرا ادھر کر دے دست قدرت کو بے اثر کر دے تیز ہے آج درد دل ساقی تلخی مے کو تیز تر کر دے جوش وحشت ہے تشنہ کام ابھی چاک دامن کو تا جگر کر دے میری قسمت سے کھیلنے والے مجھ کو قسمت سے بے خبر کر دے لٹ رہی ہے مری متاع نیاز کاش وہ اس طرف نظر کر دے فیضؔ تکمیل آرزو معلوم ہو سکے تو ...

مزید پڑھیے

حیراں ہے جبیں آج کدھر سجدہ روا ہے

حیراں ہے جبیں آج کدھر سجدہ روا ہے سر پر ہیں خداوند سر عرش خدا ہے کب تک اسے سینچو گے تمنائے ثمر میں یہ صبر کا پودا تو نہ پھولا نہ پھلا ہے ملتا ہے خراج اس کو تری نان جویں سے ہر بادشہ وقت ترے در کا گدا ہے ہر ایک عقوبت سے ہے تلخی میں سوا تر وہ رنگ جو ناکردہ گناہوں کی سزا ہے احسان لیے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4297 سے 5858