شاعری

خدا وہ وقت نہ لائے

خدا وہ وقت نہ لائے کہ سوگوار ہو تو سکوں کی نیند تجھے بھی حرام ہو جائے تری مسرت پیہم تمام ہو جائے تری حیات تجھے تلخ جام ہو جائے غموں سے آئینۂ دل گداز ہو تیرا ہجوم یاس سے بیتاب ہو کے رہ جائے وفور درد سے سیماب ہوکے رہ جائے ترا شباب فقط خواب ہو کے رہ جائے غرور حسن سراپا نیاز ہو ...

مزید پڑھیے

پاس رہو

تم مرے پاس رہو مرے قاتل، مرے دل دار مرے پاس رہو جس گھڑی رات چلے، آسمانوں کا لہو پی کے سیہ رات چلے مرہم مشک لیے، نشتر الماس لیے بین کرتی ہوئی ہنستی ہوئی، گاتی نکلے درد کے کاسنی پازیب بجاتی نکلے جس گھڑی سینوں میں ڈوبے ہوئے دل آستینوں میں نہاں ہاتھوں کی رہ تکنے لگے آس لیے اور بچوں کے ...

مزید پڑھیے

سوچنے دو

اک ذرا سوچنے دو اس خیاباں میں جو اس لحظہ بیاباں بھی نہیں کون سی شاخ میں پھول آئے تھے سب سے پہلے کون بے رنگ ہوئی رنج و تعب سے پہلے اور اب سے پہلے کس گھڑی کون سے موسم میں یہاں خون کا قحط پڑا گل کی شہ رگ پہ کڑا وقت پڑا سوچنے دو سوچنے دو اک ذرا سوچنے دو یہ بھرا شہر جو اب وادئ ویراں بھی ...

مزید پڑھیے

انتظار

گزر رہے ہیں شب و روز تم نہیں آتیں ریاض زیست ہے آزردۂ بہار ابھی مرے خیال کی دنیا ہے سوگوار ابھی جو حسرتیں ترے غم کی کفیل ہیں پیاری ابھی تلک مری تنہائیوں میں بستی ہیں طویل راتیں ابھی تک طویل ہیں پیاری اداس آنکھیں تری دید کو ترستی ہیں بہار حسن پہ پابندیٔ جفا کب تک یہ آزمائش صبر گریز ...

مزید پڑھیے

کچھ عشق کیا کچھ کام کیا

کچھ عشق کیا کچھ کام کیا وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے عاشقی کرتے تھے ہم جیتے جی مصروف رہے کچھ عشق کیا کچھ کام کیا کام عشق کے آڑے آتا رہا اور عشق سے کام الجھتا رہا پھر آخر تنگ آ کر ہم نے دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا

مزید پڑھیے

ترانہ

دربار وطن میں جب اک دن سب جانے والے جائیں گے کچھ اپنی سزا کو پہنچیں گے، کچھ اپنی جزا لے جائیں گے اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو وہ وقت قریب آ پہنچا ہے جب تخت گرائے جائیں گے جب تاج اچھالے جائیں گے اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں اب زندانوں کی خیر نہیں جو دریا جھوم کے اٹھے ہیں تنکوں سے نہ ٹالے ...

مزید پڑھیے

انتساب

آج کے نام اور آج کے غم کے نام آج کا غم کہ ہے زندگی کے بھرے گلستاں سے خفا زرد پتوں کا بن زرد پتوں کا بن جو مرا دیس ہے درد کی انجمن جو مرا دیس ہے کلرکوں کی افسردہ جانوں کے نام کرم خوردہ دلوں اور زبانوں کے نام پوسٹ مینوں کے نام تانگے والوں کا نام ریل بانوں کے نام کارخانوں کے بھوکے ...

مزید پڑھیے

ہم تو مجبور وفا ہیں

تجھ کو کتنوں کا لہو چاہیئے اے ارض وطن جو ترے عارض بے رنگ کو گلنار کریں کتنی آہوں سے کلیجہ ترا ٹھنڈا ہوگا کتنے آنسو ترے صحراؤں کو گل زار کریں تیرے ایوانوں میں پرزے ہوئے پیماں کتنے کتنے وعدے جو نہ آسودۂ اقرار ہوئے کتنی آنکھوں کو نظر کھا گئی بد خواہوں کی خواب کتنے تری شہ راہوں میں ...

مزید پڑھیے

زنداں کی ایک شام

شام کے پیچ و خم ستاروں سے زینہ زینہ اتر رہی ہے رات یوں صبا پاس سے گزرتی ہے جیسے کہہ دی کسی نے پیار کی بات صحن زنداں کے بے وطن اشجار سرنگوں محو ہیں بنانے میں دامن آسماں پہ نقش و نگار شانۂ بام پر دمکتا ہے مہرباں چاندنی کا دست جمیل خاک میں گھل گئی ہے آب نجوم نور میں گھل گیا ہے عرش کا ...

مزید پڑھیے

کتے

یہ گلیوں کے آوارہ بے کار کتے کہ بخشا گیا جن کو ذوق گدائی زمانے کی پھٹکار سرمایہ ان کا جہاں بھر کی دھتکار ان کی کمائی نہ آرام شب کو نہ راحت سویرے غلاظت میں گھر نالیوں میں بسیرے جو بگڑیں تو اک دوسرے کو لڑا دو ذرا ایک روٹی کا ٹکڑا دکھا دو یہ ہر ایک کی ٹھوکریں کھانے والے یہ فاقوں سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4296 سے 5858