صبح آزادی (اگست 47)
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل کہیں تو ہوگا شب سست موج کا ساحل کہیں تو جا کے رکے گا سفینۂ غم دل جواں لہو کی پر اسرار شاہراہوں سے چلے جو ...