شاعری

صبح آزادی (اگست 47)

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل کہیں تو ہوگا شب سست موج کا ساحل کہیں تو جا کے رکے گا سفینۂ غم دل جواں لہو کی پر اسرار شاہراہوں سے چلے جو ...

مزید پڑھیے

رقیب سے!

آ کہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ سے جس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھا جس کی الفت میں بھلا رکھی تھی دنیا ہم نے دہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا آشنا ہیں ترے قدموں سے وہ راہیں جن پر اس کی مدہوش جوانی نے عنایت کی ہے کارواں گزرے ہیں جن سے اسی رعنائی کے جس کی ان آنکھوں نے بے سود ...

مزید پڑھیے

یاد

دشت تنہائی میں اے جان جہاں لرزاں ہیں تیری آواز کے سائے ترے ہونٹوں کے سراب دشت تنہائی میں دوری کے خس و خاک تلے کھل رہے ہیں ترے پہلو کے سمن اور گلاب اٹھ رہی ہے کہیں قربت سے تری سانس کی آنچ اپنی خوشبو میں سلگتی ہوئی مدھم مدھم دور افق پار چمکتی ہوئی قطرہ قطرہ گر رہی ہے تری دل دار نظر ...

مزید پڑھیے

جب تیری سمندر آنکھوں میں

یہ دھوپ کنارا شام ڈھلے ملتے ہیں دونوں وقت جہاں جو رات نہ دن جو آج نہ کل پل بھر کو امر پل بھر میں دھواں اس دھوپ کنارے پل دو پل ہونٹوں کی لپک بانہوں کی چھنک یہ میل ہمارا جھوٹ نہ سچ کیوں رار کرو کیوں دوش دھرو کس کارن جھوٹی بات کرو جب تیری سمندر آنکھوں میں اس شام کا سورج ڈوبے گا سکھ ...

مزید پڑھیے

مرے درد کو جو زباں ملے

مرا درد نغمۂ بے صدا مری ذات ذرۂ بے نشاں میرے درد کو جو زباں ملے مجھے اپنا نام و نشاں ملے میری ذات کا جو نشاں ملے مجھے راز نظم جہاں ملے جو مجھے یہ راز نہاں ملے مری خامشی کو بیاں ملے مجھے کائنات کی سروری مجھے دولت دو جہاں ملے

مزید پڑھیے

لوح و قلم

ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے اسباب غم عشق بہم کرتے رہیں گے ویرانی دوراں پہ کرم کرتے رہیں گے ہاں تلخی ایام ابھی اور بڑھے گی ہاں اہل ستم مشق ستم کرتے رہیں گے منظور یہ تلخی یہ ستم ہم کو گوارا دم ہے تو مداوائے الم کرتے رہیں گے مے خانہ سلامت ہے ...

مزید پڑھیے

مرے ہمدم مرے دوست!

گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوست گر مجھے اس کا یقیں ہو کہ ترے دل کی تھکن تری آنکھوں کی اداسی تیرے سینے کی جلن میری دل جوئی مرے پیار سے مٹ جائے گی گر مرا حرف تسلی وہ دوا ہو جس سے جی اٹھے پھر ترا اجڑا ہوا بے نور دماغ تیری پیشانی سے ڈھل جائیں یہ تذلیل کے داغ تیری بیمار جوانی کو ...

مزید پڑھیے

اس وقت تو یوں لگتا ہے

اس وقت تو یوں لگتا ہے اب کچھ بھی نہیں ہے مہتاب نہ سورج، نہ اندھیرا نہ سویرا آنکھوں کے دریچوں پہ کسی حسن کی چلمن اور دل کی پناہوں میں کسی درد کا ڈیرا ممکن ہے کوئی وہم تھا، ممکن ہے سنا ہو گلیوں میں کسی چاپ کا اک آخری پھیرا شاخوں میں خیالوں کے گھنے پیڑ کی شاید اب آ کے کرے گا نہ کوئی ...

مزید پڑھیے

دل من مسافر من

مرے دل، مرے مسافر ہوا پھر سے حکم صادر کہ وطن بدر ہوں ہم تم دیں گلی گلی صدائیں کریں رخ نگر نگر، کا کہ سراغ کوئی پائیں کسی یار نامہ بر کا ہر اک اجنبی سے پوچھیں جو پتا تھا اپنے گھر کا سر کوئے ناشنایاں ہمیں دن سے رات کرنا کبھی اس سے بات کرنا کبھی اس سے بات کرنا تمہیں کیا کہوں کہ کیا ...

مزید پڑھیے

آج کی رات

آج کی رات ساز درد نہ چھیڑ دکھ سے بھرپور دن تمام ہوئے اور کل کی خبر کسے معلوم دوش و فردا کی مٹ چکی ہیں حدود ہو نہ ہو اب سحر کسے معلوم زندگی ہیچ! لیکن آج کی رات ایزدیت ہے ممکن آج کی رات آج کی رات ساز درد نہ چھیڑ اب نہ دہرا فسانہ ہائے الم اپنی قسمت پہ سوگوار نہ ہو فکر فردا اتار دے دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4295 سے 5858