شاعری

میرے لب پر کوئی دعا ہی نہیں

میرے لب پر کوئی دعا ہی نہیں اس کرم کی کچھ انتہا ہی نہیں کشتئ اعتبار توڑ کے دیکھ کہ خدا بھی ہے نا خدا ہی نہیں میری ہستی گواہ ہے کہ مجھے تو کسی وقت بھولتا ہی نہیں اب اسے ناامید کیوں کہیے دل کو توفیق مدعا ہی نہیں غم میں لذت کہاں کہ دل نہ رہا ہائے وہ حسرت آشنا ہی نہیں وہی تو ہے وہی ...

مزید پڑھیے

ادا سے آڑ میں خنجر کے منہ چھپائے ہوئے

ادا سے آڑ میں خنجر کے منہ چھپائے ہوئے مری قضا کو وہ لائے دلہن بنائے ہوئے الٰہی کیوں نہیں ہوتی کوئی بلا نازل اثر ہے دیر سے دست دعا اٹھائے ہوئے تری لگائی ہوئی آگ حشر تک نہ بجھی ہوئے نہ مر کے بھی ٹھنڈے ترے جلائے ہوئے بلائے جاں ہے مگر پھر بھی آرزو ہے تری ہم اس کو اپنے کلیجے سے ہیں ...

مزید پڑھیے

دنیا میری بلا جانے مہنگی ہے یا سستی ہے

دنیا میری بلا جانے مہنگی ہے یا سستی ہے موت ملے تو مفت نہ لوں ہستی کی کیا ہستی ہے آبادی بھی دیکھی ہے ویرانے بھی دیکھے ہیں جو اجڑے اور پھر نہ بسے دل وہ نرالی بستی ہے خود جو نہ ہونے کا ہو عدم کیا اسے ہونا کہتے ہیں نیست نہ ہو تو ہست نہیں یہ ہستی کیا ہستی ہے عجز گناہ کے دم تک ہیں عصمت ...

مزید پڑھیے

آنکھ اٹھائی ہی تھی کہ کھائی چوٹ

آنکھ اٹھائی ہی تھی کہ کھائی چوٹ بچ گئی آنکھ دل پہ آئی چوٹ درد دل کی انہیں خبر کیا ہو جانتا کون ہے پرائی چوٹ آئی تنہا نہ خانۂ دل میں درد کو اپنے ساتھ لائی چوٹ تیغ تھی ہاتھ میں نہ خنجر تھا اس نے کیا جانے کیا لگائی چوٹ یوں نہ قاتل کو جب یقیں آیا ہم نے دل کھول کر دکھائی چوٹ اور کیا ...

مزید پڑھیے

ضبط اپنا شعار تھا نہ رہا

ضبط اپنا شعار تھا نہ رہا دل پہ کچھ اختیار تھا نہ رہا دل مرحوم کو خدا بخشے ایک ہی غم گسار تھا نہ رہا آ کہ وقت سکون مرگ آیا نالہ ناخوش گوار تھا نہ رہا ان کی بے مہریوں کو کیا معلوم کوئی امیدوار تھا نہ رہا آہ کا اعتبار بھی کب تک آہ کا اعتبار تھا نہ رہا کچھ زمانے کو سازگار سہی جو ...

مزید پڑھیے

جی ڈھونڈھتا ہے گھر کوئی دونوں جہاں سے دور

جی ڈھونڈھتا ہے گھر کوئی دونوں جہاں سے دور اس آپ کی زمیں سے الگ آسماں سے دور شاید میں در خور نگہ گرم بھی نہیں بجلی تڑپ رہی ہے مرے آشیاں سے دور آنکھیں چرا کے آپ نے افسانہ کر دیا جو حال تھا زباں سے قریب اور بیاں سے دور تا عرض شوق میں نہ رہے بندگی کی لاگ اک سجدہ چاہتا ہوں ترے آستاں ...

مزید پڑھیے

ہر سانس کے ساتھ جا رہا ہوں

ہر سانس کے ساتھ جا رہا ہوں میں تیرے قریب آ رہا ہوں یہ دل میں کراہنے لگا کون رو رو کے کسے رلا رہا ہوں اب عشق کو بے نقاب کر کے میں حسن کو آزما رہا ہوں اسرار جمال کھل رہے ہیں ہستی کا سراغ پا رہا ہوں تنہائی شام غم کے ڈر سے کچھ ان سے جواب پا رہا ہوں لذت کش آرزو ہوں فانیؔ دانستہ فریب ...

مزید پڑھیے

اے موت تجھ پہ عمر ابد کا مدار ہے

اے موت تجھ پہ عمر ابد کا مدار ہے تو اعتبار ہستی بے اعتبار ہے عہد ازل پہ زندگیوں کا مدار ہے عالم تمام غم کدۂ اعتبار ہے ذرات چشم شوق ہیں آمادۂ نگاہ محرومیوں کو اب بھی ترا انتظار ہے بیداد کا گلہ تو کروں اور جو وہ کہیں یہ کہیے امتحان وفا ناگوار ہے اک یہ وفا کہ ننگ غم دوست ہے ...

مزید پڑھیے

بجلیاں ٹوٹ پڑیں جب وہ مقابل سے اٹھا

بجلیاں ٹوٹ پڑیں جب وہ مقابل سے اٹھا مل کے پلٹی تھیں نگاہیں کہ دھواں دل سے اٹھا جلوہ محسوس سہی آنکھ کو آزاد تو کر قید آداب تماشا بھی تو محفل سے اٹھا پھر تو مضراب جنوں ساز انا لیلیٰ چھیڑ ہائے وہ شور انا القیس کہ محمل سے اٹھا اختیار ایک ادا تھی مری مجبوری کی لطف سعی عمل اس مطلب ...

مزید پڑھیے

کسی کے ایک اشارے میں کس کو کیا نہ ملا

کسی کے ایک اشارے میں کس کو کیا نہ ملا بشر کو زیست ملی موت کو بہانہ ملا مذاق تلخ پسندی نہ پوچھ اس دل کا بغیر مرگ جسے زیست کا مزا نہ ملا دبی زباں سے مرا حال چارہ ساز نہ کہہ بس اب تو زہر ہی دے زہر میں دوا نہ ملا خدا کی دین نہیں ظرف خلق پر موقوف یہ دل بھی کیا ہے جسے درد کا خزانہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4286 سے 5858