شاعری

جب دل میں ترے غم نے حسرت کی بنا ڈالی

جب دل میں ترے غم نے حسرت کی بنا ڈالی دنیا مری راحت کی قسمت نے مٹا ڈالی اب برق نشیمن کو ہر شاخ سے کیا مطلب جس شاخ کو تاکا تھا وہ شاخ جلا ڈالی اظہار محبت کی حسرت کو خدا سمجھے ہم نے یہ کہانی بھی سو بار سنا ڈالی جینے بھی نہیں دیتے مرنے بھی نہیں دیتے کیا تم نے محبت کی ہر رسم اٹھا ...

مزید پڑھیے

اپنی جنت مجھے دکھلا نہ سکا تو واعظ (ردیف .. ی)

اپنی جنت مجھے دکھلا نہ سکا تو واعظ کوچۂ یار میں چل دیکھ لے جنت میری ساری دنیا سے انوکھی ہے زمانے سے جدا نعمت خاص ہے اللہ رے قسمت میری شکوۂ ہجر پہ سر کاٹ کے فرماتے ہیں پھر کروگے کبھی اس منہ سے شکایت میری تیری قدرت کا نظارہ ہے مرا عجز گناہ تیری رحمت کا اشارہ ہے ندامت میری لو ...

مزید پڑھیے

قسم نہ کھاؤ تغافل سے باز آنے کی

قسم نہ کھاؤ تغافل سے باز آنے کی کہ دل میں اب نہیں طاقت ستائے جانے کی ہماری موت نے کچھ مختصر کیا ورنہ کچھ انتہا ہی نہ تھی عشق کے فسانے کی گری نہ برق کچھ اس خوف سے مرے ہوتے تڑپ کے آگ بجھا دوں نہ آشیانے کی تمہارا درد تو درماں بنا لیا ہم نے اب اور سوچیے تدبیر دل دکھانے کی زمانہ کفر ...

مزید پڑھیے

آہ اب تک تو بے اثر نہ ہوئی

آہ اب تک تو بے اثر نہ ہوئی کچھ تمہیں کو مری خبر نہ ہوئی شام سے فکر صبح کیا شب ہجر مر رہیں گے اگر سحر نہ ہوئی کس سے دل کا سراغ پائیں گے ہم تو ہی اے آرزو اگر نہ ہوئی خلق سمجھی مجھی کو دیوانہ چارہ فرمائے چارہ گر نہ ہوئی کچھ نظر کہہ گئی زباں نہ کھلی بات ان سے ہوئی مگر نہ ہوئی شکوہ ...

مزید پڑھیے

خوشی سے رنج کا بدلا یہاں نہیں ملتا

خوشی سے رنج کا بدلا یہاں نہیں ملتا وہ مل گئے تو مجھے آسماں نہیں ملتا ہزار ڈھونڈیئے اس کا نشاں نہیں ملتا جبیں ملے تو ملے آستاں نہیں ملتا مجاز اور حقیقت کچھ اور ہے یعنی تری نگاہ سے تیرا بیاں نہیں ملتا بھڑک کے شعلۂ گل تو ہی اب لگا دے آگ کہ بجلیوں کو مرا آشیاں نہیں ملتا تری تلاش ...

مزید پڑھیے

اے اجل اے جان فانیؔ تو نے یہ کیا کر دیا

اے اجل اے جان فانیؔ تو نے یہ کیا کر دیا مار ڈالا مرنے والے کو کہ اچھا کر دیا جب ترا ذکر آ گیا ہم دفعتاً چپ ہو گئے وہ چھپایا راز دل ہم نے کہ افشا کر دیا کس قدر بے زار تھا دل مجھ سے ضبط شوق پر جب کہا دل کا کیا ظالم نے رسوا کر دیا یوں چرائیں اس نے آنکھیں سادگی تو دیکھیے بزم میں گویا ...

مزید پڑھیے

بے خودی پہ تھا فانیؔ کچھ نہ اختیار اپنا

بے خودی پہ تھا فانیؔ کچھ نہ اختیار اپنا عمر بھر کیا ناحق ہم نے انتظار اپنا تاب ضبط غم نے بھی دے دیا جواب آخر ان کے دل سے اٹھتا ہے آج اعتبار اپنا عشق زندگی ٹھہرا لیکن اب یہ مشکل ہے زندگی سے ہوتا ہے عہد استوار اپنا شکوہ برملا کرتے خیر یہ تو کیا کرتے ہاں مگر جو بن پڑتا شکوہ ایک بار ...

مزید پڑھیے

دل اور دل میں یاد کسی خوش خرام کی (ردیف .. م)

دل اور دل میں یاد کسی خوش خرام کی سینے میں حشر لے کے چلے ہیں جہاں سے ہم اب چارہ سازئ دل بیمار کیا کریں اے مرگ ناگہاں تجھے لائیں کہاں سے ہم اللہ رکھے ہم کو سہارا ہے ضعف کا بیٹھے تو پھر اٹھیں گے نہ اس آستاں سے ہم کیا کیا دئیے فریب غم عشق یار نے دل ہم سے بدگمان ہے اور راز داں سے ہم

مزید پڑھیے

ہر گھڑی انقلاب میں گزری

ہر گھڑی انقلاب میں گزری زندگی کس عذاب میں گزری شوق تھا مانع تجلی دوست ان کی شوخی حجاب میں گزری کرم بے حساب چاہا تھا ستم بے حساب میں گزری ورنہ دشوار تھا سکون حیات خیر سے اضطراب میں گزری راز ہستی کی جستجو میں رہے رات تعبیر خواب میں گزری کچھ کٹی ہمت سوال میں عمر کچھ امید جواب ...

مزید پڑھیے

بے ذوق نظر بزم تماشا نہ رہے گی

بے ذوق نظر بزم تماشا نہ رہے گی منہ پھیر لیا ہم نے تو دنیا نہ رہے گی ایذا نہ رہے گی جو گوارا نہ رہے گی چھیڑا مجھے دنیا نے تو دنیا نہ رہے گی دل لے کے یہ کیا ضد ہے کہ اب جان بھی کیوں ہو یہ بھی نہ رہے گی بہت اچھا نہ رہے گی یہ درد محبت غم دنیا تو نہیں ہے اب موت بھی جینے کا سہارا نہ رہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4285 سے 5858