ہر قدم خوف ہے دہشت ہے ریاکاری ہے
ہر قدم خوف ہے دہشت ہے ریاکاری ہے روشنی میں بھی اندھیروں کا سفر جاری ہے طاقت کفر نے کہرام مچا رکھا ہے جانے کس کس کو مٹانے کی یہ تیاری ہے مل کے سب قہر بپا کرتے ہیں انسانوں پر ہے جنوں ذہن میں اور آنکھ میں چنگاری ہے اپنے انداز سے ایک ساتھ یہاں پر رہنا یہ ہماری ہی نہیں تیری بھی ...