شاعری

عشق عشق ہو شاید حسن میں فنا ہو کر

عشق عشق ہو شاید حسن میں فنا ہو کر انتہا ہوئی غم کی دل کی ابتدا ہو کر دل ہمیں ہوا حاصل درد میں فنا ہو کر عشق کا ہوا آغاز غم کی انتہا ہو کر نامراد رہنے تک نامراد جیتے ہیں سانس بن گیا اک ایک نالہ نارسا ہو کر اب ہوئی زمانہ میں شیوۂ وفا کی قدر عالم آشنا ہے وہ دشمن وفا ہو کر اور بندے ...

مزید پڑھیے

یاں ہوش سے بے زار ہوا بھی نہیں جاتا

یاں ہوش سے بے زار ہوا بھی نہیں جاتا اس بزم میں ہشیار ہوا بھی نہیں جاتا کہتے ہو کہ ہم وعدۂ پرسش نہیں کرتے یہ سن کے تو بیمار ہوا بھی نہیں جاتا دشوارئ انکار سے طالب نہیں ڈرتے یوں سہل تو اقرار ہوا بھی نہیں جاتا آتے ہیں عیادت کو تو کرتے ہیں نصیحت احباب سے غم خوار ہوا بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

کیا چھپاتے کسی سے حال اپنا

کیا چھپاتے کسی سے حال اپنا جی ہی جب ہو گیا نڈھال اپنا ہم ہیں اس کے خیال کی تصویر جس کی تصویر ہے خیال اپنا وہ بھی اب غم کو غم سمجھتے ہیں دور پہنچا مگر ملال اپنا تو نے رکھ لی گناہ گار کی شرم کام آیا نہ انفعال اپنا دیکھ دل کی زمیں لرزتی ہے یاد جاناں قدم سنبھال اپنا باخبر ہیں وہ سب ...

مزید پڑھیے

کی وفا یار سے ایک ایک جفا کے بدلے

کی وفا یار سے ایک ایک جفا کے بدلے ہم نے گن گن کے لیے خون وفا کے بدلے کی سپرد در بت خانہ اجل نے مری خاک کس کو سونپا مجھے ظالم نے خدا کے بدلے لطف بیداد حیا غصہ تغافل شوخی رنگ کیا کیا نہ تلون نے ادا کے بدلے ہائے میں کشتۂ انداز ہوں یا رب کس کا حور آئی مجھے لینے کو قضا کے بدلے تیر سے ...

مزید پڑھیے

ڈرو نہ تم کہ نہ سن لے کہیں خدا میری

ڈرو نہ تم کہ نہ سن لے کہیں خدا میری کہ روشناس اجابت نہیں دعا میری وہ تم کہ تم نے جفا کی تو کچھ برا نہ کیا وہ میں کہ ذکر کے قابل نہیں وفا میری چلے بھی آؤ کہ دنیا سے جا رہا ہے کوئی سنو کہ پھر نہ سنوگے تم التجا میری کچھ ایسی یاس سے حسرت سے میں نے دم توڑا جگر کو تھام کے رہ رہ گئی قضا ...

مزید پڑھیے

اک فسانہ سن گئے اک کہہ گئے

اک فسانہ سن گئے اک کہہ گئے میں جو رویا مسکرا کر رہ گئے یا ترے محتاج ہیں اے خون دل یا انہیں آنکھوں سے دریا بہہ گئے موت ان کا منہ ہی تکتی رہ گئی جو تری فرقت کے صدمے سہ گئے تو سلامت ہے تو ہم اے درد دل مر ہی جائیں گے جو جیتے رہ گئے پھر کسی کی یاد نے تڑپا دیا پھر کلیجہ تھام کر ہم رہ ...

مزید پڑھیے

زندگی جبر ہے اور جبر کے آثار نہیں

زندگی جبر ہے اور جبر کے آثار نہیں ہائے اس قید کو زنجیر بھی درکار نہیں بے ادب گریۂ محرومئ دیدار نہیں ورنہ کچھ در کے سوا حاصل دیوار نہیں آسماں بھی ترے کوچہ کی زمیں ہے لیکن وہ زمیں جس پہ ترا سایۂ دیوار نہیں ہائے دنیا وہ تری سرمہ تقاضہ آنکھیں کیا مری خاک کا ذرہ کوئی بیکار نہیں

مزید پڑھیے

محتاج اجل کیوں ہے خود اپنی قضا ہو جا

محتاج اجل کیوں ہے خود اپنی قضا ہو جا غیرت ہو تو مرنے سے پہلے ہی فنا ہو جا اے شوق طلب بڑھ کر مجنون ادا ہو جا اے ہمت مردانہ راضی بہ رضا ہو جا آغوش فنا میں ہم پروردۂ آفت ہیں اے فتنۂ دوراں اٹھ اے حشر بپا ہو جا ضد اور یہ ضد اے دل اچھا تو خدا حافظ قربان ہی اس بت پر ہوتا ہے تو جا ہو جا اس ...

مزید پڑھیے

ابتدائے عشق ہے لطف شباب آنے کو ہے

ابتدائے عشق ہے لطف شباب آنے کو ہے صبر رخصت ہو رہا ہے اضطراب آنے کو ہے قبر پر کس شان سے وہ بے نقاب آنے کو ہے آفتاب صبح محشر ہم رکاب آنے کو ہے مجھ تک اس محفل میں پھر جام شراب آنے کو ہے عمر رفتہ پلٹی آتی ہے شباب آنے کو ہے ہائے کیسی کشمکش ہے یاس بھی ہے آس بھی دم نکل جانے کو ہے خط کا ...

مزید پڑھیے

دل کی طرف حجاب تکلف اٹھا کے دیکھ

دل کی طرف حجاب تکلف اٹھا کے دیکھ آئینہ دیکھ اور ذرا مسکرا کے دیکھ اس دور میں یہ طرز جفا آزما کے دیکھ دل کے بجائے دل کے سکوں کو مٹا کے دیکھ تسلیم کی نظر سے کرشمے رضا کے دیکھ بیگانگی دوست کو اپنا بنا کے دیکھ اس شورش حیات کو حد سے بڑھا کے دیکھ یہ فتنہ اور حشر سے پہلے اٹھا کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4284 سے 5858