عشق عشق ہو شاید حسن میں فنا ہو کر
عشق عشق ہو شاید حسن میں فنا ہو کر انتہا ہوئی غم کی دل کی ابتدا ہو کر دل ہمیں ہوا حاصل درد میں فنا ہو کر عشق کا ہوا آغاز غم کی انتہا ہو کر نامراد رہنے تک نامراد جیتے ہیں سانس بن گیا اک ایک نالہ نارسا ہو کر اب ہوئی زمانہ میں شیوۂ وفا کی قدر عالم آشنا ہے وہ دشمن وفا ہو کر اور بندے ...