شاعری

ہمیں جب اپنا تعارف کرانا پڑتا ہے

ہمیں جب اپنا تعارف کرانا پڑتا ہے نہ جانے کتنے دکھوں کو دبانا پڑتا ہے اب آ رہا ہو کوئی جسم اس تصوف سے تو ہم کو حلقۂ بیعت بڑھانا پڑتا ہے کسی کو نیند نہ آتی ہو روشنی میں اگر تو خود چراغ محبت بجھانا پڑتا ہے بہت زیادہ ہیں خطرے بدن کی محفل میں پر اپنی ایک ہی محفل ہے جانا پڑتا ہے خدا ...

مزید پڑھیے

گھر میں چیزیں بڑھ رہی ہیں زندگی کم ہو رہی ہے

گھر میں چیزیں بڑھ رہی ہیں زندگی کم ہو رہی ہے دھیرے دھیرے گھر کی اپنی روشنی کم ہو رہی ہے شہر کے بازار کی رونق میں دل بجھنے لگے ہیں خوب خوش ہونے کی خواہش میں خوشی کم ہو رہی ہے اب کسی کو بھی چھوؤ لگتا ہے پہلے سے چھوا سا وہ جو تھی پہلے پہل کی سنسنی کم ہو رہی ہے طے شدہ لفظوں میں کرتے ...

مزید پڑھیے

عمر بے وجہ گزارے بھی نہیں جا سکتے

عمر بے وجہ گزارے بھی نہیں جا سکتے اتنے زندہ ہیں کہ مارے بھی نہیں جا سکتے حال اب یہ ہے کہ دریا میں بھی لگتا نہیں جی اور کسی ایک کنارے بھی نہیں جا سکتے اس جگہ جا کے وہ بیٹھا ہے بھری محفل میں اب جہاں میرے اشارے بھی نہیں جا سکتے زیب تن اتنے کیے دل نے ہوس کے ملبوس کہ شب وصل اتارے بھی ...

مزید پڑھیے

کیا بیٹھ جائیں آن کے نزدیک آپ کے

کیا بیٹھ جائیں آن کے نزدیک آپ کے بس رات کاٹنی ہے ہمیں آگ تاپ کے کہیے تو آپ کو بھی پہن کر میں دیکھ لوں معشوق یوں تو ہیں ہی نہیں میری ناپ کے بجتی ہیں شہر شہر مرے دل کی دھڑکنیں چرچے ہیں دور دور اسی ڈھولک کی تھاپ کے اک رات آپ جسم خدا بن کے آئیے اور ہم گناہ گار ہوں پہلو میں آپ ...

مزید پڑھیے

جب اس کو دیکھتے رہنے سے تھکنے لگتا ہوں

جب اس کو دیکھتے رہنے سے تھکنے لگتا ہوں تو اپنے خواب کی پلکیں جھپکنے لگتا ہوں جسے بھی پیاس بجھانی ہو میرے پاس رہے کبھی بھی اپنے لبوں سے چھلکنے لگتا ہوں ہوائے ہجر دکھاتی ہے سبز باغ وصال تو باغ وہم میں اپنے مہکنے لگتا ہوں چھڑکنی پڑتی ہے خود پر کسی بدن کی آگ میں اپنی آگ میں جب بھی ...

مزید پڑھیے

خلل آیا نہ حقیقت میں نہ افسانہ بنا

خلل آیا نہ حقیقت میں نہ افسانہ بنا میں تو لگتا ہے کہ بیکار ہی دیوانہ بنا مار ہی ڈالا تھا ساحل کے مرض نے مجھ کو ایک سیلاب اچانک ہی شفا خانہ بنا جیسے پرچھائیں بنائی گئی ہر جسم کے ساتھ اسی انداز سے ہر شہر کا ویرانہ بنا مسجد جسم جسے کوئی نمازی نہ ملا وہیں اک شام مری روح کا مے خانہ ...

مزید پڑھیے

پیکر عقل ترے ہوش ٹھکانے لگ جائیں

پیکر عقل ترے ہوش ٹھکانے لگ جائیں تیرے پیچھے بھی جو ہم جیسے دوانے لگ جائیں اس کا منصوبہ یہ لگتا ہے گلی میں اس کی ہم یوں ہی خاک اڑانے میں ٹھکانے لگ جائیں سوچ کس کام کی رہ جائے گی تیری یہ بہار اپنے اندر ہی اگر ہم تجھے پانے لگ جائیں سب کے جیسی نہ بنا زلف کہ ہم سادہ نگاہ تیرے دھوکے ...

مزید پڑھیے

راہ کی کچھ تو رکاوٹ یار کم کر دیجیے

راہ کی کچھ تو رکاوٹ یار کم کر دیجیے آپ اپنے گھر کی اک دیوار کم کر دیجیے آپ کا عاشق بہت کمزور دل کا ہے حضور دیکھیے یہ شدت انکار کم کر دیجیے میں بھی ہونٹوں سے کہوں گا کم کریں جلنے کا شوق آپ اگر سرگرمیٔ رخسار کم کر دیجیے ایک تو شرم آپ کی اور اس پہ تکیہ درمیاں دونوں دیواروں میں اک ...

مزید پڑھیے

دیکھتے ہی دیکھتے کھونے سے پہلے دیکھتے

دیکھتے ہی دیکھتے کھونے سے پہلے دیکھتے روشنی کو روشنی ہونے سے پہلے دیکھتے اس طرح ضائع ہوئی ہوتیں نہ آنکھیں نیند میں ہم یہ سارے خواب اگر سونے سے پہلے دیکھتے شہر کا آئینہ خانہ ہے سر سیلاب عکس اپنا چہرہ بھیڑ میں کھونے سے پہلے دیکھتے بعد کا سارا سفر قابو میں رہتا آپ کے خاک کو گر بے ...

مزید پڑھیے

آخر اس کے حسن کی مشکل کو حل میں نے کیا

آخر اس کے حسن کی مشکل کو حل میں نے کیا ایک نثری نظم تھی جس کو غزل میں نے کیا کیا بلاغت آ گئی اس کے بدن کے متن میں چند لفظوں کا جو کچھ رد و بدل میں نے کیا باعث توہین ہے دل کے لیے تکرار جسم آج پھر کیسے کروں وہ سب جو کل میں نے کیا بزم ہو بازار ہو ساری نگاہیں مجھ پہ ہیں کیا ان آنکھوں کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4268 سے 5858