مرے ثبوت بہے جا رہے ہیں پانی میں
مرے ثبوت بہے جا رہے ہیں پانی میں کسے گواہ بناؤں سرائے فانی میں جو آنسوؤں میں نہاتے رہے سو پاک رہے نماز ورنہ کسے مل سکی جوانی میں بھڑک اٹھے ہیں پھر آنکھوں میں آنسوؤں کے چراغ پھر آج آگ لگا دی گئی ہے پانی میں ہمیں تھے ایسے کہاں کے کہ اپنے گھر جاتے بڑے بڑوں نے گزاری ہے بے مکانی ...