شاعری

آیا ذرا سی دیر رہا غل گیا بدن

آیا ذرا سی دیر رہا غل گیا بدن اپنی اڑائی خاک میں ہی رل گیا بدن خواہش تھی آبشار محبت میں غسل کی ہلکی سی اک پھوار میں ہی گھل گیا بدن زیر کمان دل تھا تو تھوڑی سی تھی امید اب تو ہمارے ہاتھ سے بالکل گیا بدن اب دیکھتا ہوں میں تو وہ اسباب ہی نہیں لگتا ہے راستے میں کہیں کھل گیا بدن میں ...

مزید پڑھیے

بچھڑے گھر کا سایہ

صبح سویرے وہ بستر سے سائے جیسی اٹھتی ہے پھر چولھے میں رات کی ٹھنڈی آگ کو روشن کرتی ہے اتنے میں دن چڑھ جاتا ہے جلدی جلدی چائے بنا کر شوہر کو رخصت کرتی ہے سیارے گردش کرتے ہیں شہر میں صحرا صحراؤں میں چٹیل میداں کہساروں کے نشیب و فراز بنا کرتے ہیں سارے گھر کو دھوتی ہے کپڑے تولیے ٹوتھ ...

مزید پڑھیے

بیضۂ نور

دور تک دور پھیلی ہوئی رات میں چاندنی میں نہایا ہوا ایک شیشے کا گھر بیضۂ نور اس کے دیوار و در تیز جاں سوز خوشبو کے پر سبز پتوں سے تر سرخ گہرے گلابوں سے بھیگے ہوئے اوس کی نرم سانسوں میں سینچے ہوئے دور تک دور پھیلی ہوئی رات میں چاندنی کا یہ گھر صبح تک رات بھر میرا ایمان ہے میرا امکان ...

مزید پڑھیے

نارسائی

ہزاروں پتوں پر تم کو خط لکھے ایک ایک جان پہچان والے سے پوچھتا پھرا ہوں جتنے منہ تھے اتنی باتیں جانے کون ہو؟ تم کو جانتا نہیں، پہچانتا بہت ہوں پتہ نہیں کون سے خواب میں کس تاریک لمحے میں بے چین بے نیند رات کی کون سی کروٹ میں اچانک روشنی سا تم کو دیکھا تھا تب سے تم سے محبت ہو گئی ...

مزید پڑھیے

خود آگہی

وہ کیسی تاریک گھڑی تھی جب مجھ کو احساس ہوا تھا میں تنہا ہوں اس دن بھی سیدھا سادہ سورج نکلا تھا شہر میں کوئی شور نہیں تھا گھر میں کوئی اور نہیں تھا اماں آٹا گوندھ رہی تھیں ابا چارپائی پر بیٹھے اونگھ رہے تھے دھیرے دھیرے دھوپ چڑھی تھی اور اچانک دل میں یہ خواہش ابھری تھی میں دنیا سے ...

مزید پڑھیے

سمندر

لفظ بہت سے جگ مگ جگ مگ کرتے تارے چاند نہیں بننے پاتے ہیں رات گلے میں پھنس جاتی ہے جذبے کتنے بورائی الہڑ خوشبوئیں پھول نہیں بننے پاتی ہیں ذات گلے میں پھنس جاتی ہے لیکن اکثر تیری یادیں تیرا چہرہ بن کر آئیں جگ مگ جگ مگ کرتے تارے بورائی الہڑ خوشبوئیں چاند جلے رہتے ہیں شب بھر پھول ...

مزید پڑھیے

کوزہ گر

اے کوزہ گر! مری مٹی لے مرا پانی لے مجھے گوندھ ذرا مجھے چاک چڑھا مجھے رنگ برنگے برتن دے

مزید پڑھیے

معمول

میں بھی بادشاہ کی حکومت کا منکر ہوں لیکن جینے کی آرزو میں روز اس کی چوکھٹ پر سورج سا ابھرتا ہوں شام سا ڈوبتا ہوں گھر میں اعلان بغاوت کے طور پر بیوی بچوں کو مارتا ہوں رات رات جاگتا ہوں

مزید پڑھیے

دنی ہیں سب کوئی راتی نہیں ہے

دنی ہیں سب کوئی راتی نہیں ہے اندھیروں کا کوئی ساتھی نہیں ہے تو کیا بے خواب ہی رہ جاؤں گا میں مجھے تو نیند ہی آتی نہیں ہے کہ ہر بیمار ان آنکھوں سے دوا پائے شفا خانہ یہ خیراتی نہیں ہے لگا ہے کتنا سرمایہ زباں کا یہ کار شاعری ذاتی نہیں ہے تراشی جا چکی امید کی لو دیا جلتا ہوا باتی ...

مزید پڑھیے

یہ سارے خوب صورت جسم ابھی مر جانے والے ہیں

یہ سارے خوب صورت جسم ابھی مر جانے والے ہیں مگر ہم عشق والے بھی کہاں باز آنے والے ہیں حقیقت کا ہمیں کیا علم سچائی سے کیا مطلب ہمارے جتنے بھی معشوق ہیں افسانے والے ہیں ہمیں مسجد سے کیا جھگڑا مگر بس ایک مشکل ہے کہ اس کی اور کے سب راستے مے خانے والے ہیں نفی کی ثالثی درکار ہے جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4266 سے 5858