دنیا کو کہاں تک جانا ہے
دنیا کو کہاں تک جانا ہے یہ کتنا بڑا افسانہ ہے سب کان لگائے بیٹھے ہیں اور رات سرکتی جاتی ہے یہ رات کہاں تک جانی ہے کچھ اس کا اور و چھور نہیں یہ رات سمندر ہے جس میں آواز بہت ہے رونے کی بس دور تلک تاریکی ہے کچھ دور ذرا سی روشنیاں پھر تاریکی پھر روشنیاں یہ رات بلا کی مایا ہے جو کچھ کا ...