شاعری

دنیا کو کہاں تک جانا ہے

دنیا کو کہاں تک جانا ہے یہ کتنا بڑا افسانہ ہے سب کان لگائے بیٹھے ہیں اور رات سرکتی جاتی ہے یہ رات کہاں تک جانی ہے کچھ اس کا اور و چھور نہیں یہ رات سمندر ہے جس میں آواز بہت ہے رونے کی بس دور تلک تاریکی ہے کچھ دور ذرا سی روشنیاں پھر تاریکی پھر روشنیاں یہ رات بلا کی مایا ہے جو کچھ کا ...

مزید پڑھیے

سانپ

سانپ لپیٹے گھوم رہا ہوں دنیا مجھ سے خوف زدہ ہے سب مجھ کو اچھے لگتے ہیں لیکن یوں ہے جس لڑکی کو چاہا میں نے جس لڑکے کو دوست بنایا جس گھر میں ماں باپ بنائے جس مسجد میں گھٹنے ٹیکے سب نے میرا سانپ ہی دیکھا مجھ کو کوئی دیکھ نہ پایا میں سب کو کیسے سمجھاؤں یہ دنیا کا سانپ نہیں ہے میرے ساتھ ...

مزید پڑھیے

شعر کہہ لینے کے بعد

جیسے تم کو چھو لیا ہے جیسے تم کو پا لیا ہے جیسے تم کو بول کر چپ ہو گیا ہوں ویسے یوں ہی شعر کہہ لینے کے بعد رات بھر میں دیکھتا ہوں دور تک وہ ماہتاب وہ گھنا گہرا گلاب

مزید پڑھیے

ہمواری

سورج میرے ایک پاؤں کا جوتا ہے دوسرے پاؤں کا جوتا چاند ان سے رات اور دنوں میں لنگڑاتا چلتا ہوں میں کاش میں اپنے دونوں جوتے ساتھ پہنتا پھر کتنے آرام سے چلتا

مزید پڑھیے

ترانۂ ریختہ

سر چڑھ کے بولتا ہے اردو زباں کا جادو ہندوستاں کی مٹی کے آسماں کا جادو ہندوستاں کا جادو سارے جہاں کا جادو سر چڑھ کے بولتا ہے اردو زباں کا جادو جپ‌ جاپ جوگیوں کا نعرہ قلندروں کا تہذیب محفلوں کی اور شور مے کدوں کا کوچے میں دلبروں کے ہنگامہ عاشقوں کا معشوق کی نگہ کے تیر و کماں کا ...

مزید پڑھیے

صاحب عشق اب اتنی سی تو راحت مجھے دے

صاحب عشق اب اتنی سی تو راحت مجھے دے گھر بنا یا در و دیوار سے رخصت مجھے دے جان یہ سرکشئ جسم ترے بس کی نہیں میری آغوش میں آ لا یہ مصیبت مجھے دے تو فراہم نہ ہو مجھ کو یہ ہے مرضی تیری تجھ کو جب چاہوں بلا لوں یہ اجازت مجھے دے یہ تری بزم بدن یوں تو نہیں چل سکتی ایک شب کو ہی سہی اس کی ...

مزید پڑھیے

رات بہت شراب پی رات بہت پڑھی نماز

رات بہت شراب پی رات بہت پڑھی نماز ایک وضو میں ہو گئی مجھ سے کئی کئی نماز تم تو اذان دے کے یار جانے کہاں چلے گئے مسجد جسم کیا بتائے کیسے پڑھی گئی نماز میرے بغیر ہو نہ پائی کوئی نماز زندگی ہوگی مگر مرے بغیر میری وہ آخری نماز میں بھی بہت نشے میں تھا نشے میں تھا امام بھی اس نے ...

مزید پڑھیے

تم کچھ بھی کرو ہوش میں آنے کے نہیں ہم

تم کچھ بھی کرو ہوش میں آنے کے نہیں ہم ہیں عشق گھرانے کے زمانے کے نہیں ہم ہم اور محبت کے سوا کچھ نہیں کرتے وہ روٹھ گیا ہے تو منانے کے نہیں ہم دریا ہے محبت تو ملے جسم کا میدان اک جسم پیالے میں سمانے کے نہیں ہم ہم پر بھی کبھی اپنی ہلاکت کی نظر ڈال سچ جان کہ جان اپنی بچانے کے نہیں ...

مزید پڑھیے

محبت چاہتے ہو کیوں وفا کیوں مانگتے ہو

محبت چاہتے ہو کیوں وفا کیوں مانگتے ہو تم ان بیمار آنکھوں سے دوا کیوں مانگتے ہو مسافر ہو تو نکلو پاؤں میں آنکھیں لگا کر کسی بھی ہم سفر سے راستہ کیوں مانگتے ہو انہیں تو خود ہی اپنی جان کے لالے پڑے ہیں بے چارے شہر والوں سے ہوا کیوں مانگتے ہو ابھی کچھ تھا ابھی کچھ ہے بدن آب رواں ...

مزید پڑھیے

بدن کے موسم برسات میں نہیں آنا

بدن کے موسم برسات میں نہیں آنا وصال کرنا ہے جذبات میں نہیں آنا معاملات‌ محبت ہوں میں غلام ترا پہ جان من تیری ہر بات میں نہیں آنا عجیب روح کی شادی ہے ایک روح کے ساتھ کسی بھی جسم کو بارات میں نہیں آنا ہم آدھی رات کے بعد اپنے ساتھ رہتے ہیں خیال رکھنا بہت رات میں نہیں آنا

مزید پڑھیے
صفحہ 4265 سے 5858