اپنا نفس نفس ہے کہ شعلہ کہیں جسے
اپنا نفس نفس ہے کہ شعلہ کہیں جسے وہ زندگی ہے آگ کا دریا کہیں جسے ہر چند شہر شہر ہے جشن سحر مگر وہ روشنی کہاں ہے سویرا کہیں جسے وہ رنگ فصل گل ہے کہ پت جھڑ بھی مات کھائے وہ صورت چمن ہے کہ صحرا کہیں جسے جو چارہ گر تھے وہ بھی ہوئے قاتل حیات اب کون ہے کہ اپنا مسیحا کہیں جسے دیوار و در ...