سائے نے سائے کو صدا دی
سائے نے سائے کو صدا دی ریت کی ہر دیوار گرا دی اس گھر میں رکھا ہی کیا تھا میں نے گھر میں آگ لگا دی نیند تمہیں آتی ہی کب تھی یاد نے کس کی نیند اڑا دی گزرے تھے خاموش گلی سے وہ جانے اب جس نے صدا دی ایک ذرا سی بات تھی جس کی دل نے ساری عمر سزا دی میں اپنے غم میں ڈوبا تھا تم نے کیوں آواز ...