شاعری

جاتا ہے جو گھروں کو وہ رستہ بدل دیا

جاتا ہے جو گھروں کو وہ رستہ بدل دیا آندھی نے میرے شہر کا نقشہ بدل دیا پہچان جن سے تھی وہ حوالے مٹا دیے اس نے کتاب ذات کا صفحہ بدل دیا کتنا عجیب ہے وہ مصور کہ غور سے دیکھے جو خد و خال تو چہرہ بدل دیا وہ کھیل تھا مذاق تھا یا خوف تھا کوئی اک چال چل کے اس نے جو مہرہ بدل دیا کرتا رہا ...

مزید پڑھیے

وفا سرشت ہوں دوری میں بھی محبت ہے

وفا سرشت ہوں دوری میں بھی محبت ہے اکیلے رہنے میں لیکن بڑی اذیت ہے یہ جاگتی ہے تو پھر دیر تک جگاتی ہے مرے وجود میں سوئی ہوئی جو وحشت ہے جہاں پہ عشق کی سرحد جنوں سے ملتی ہے وہاں پہ آ کے ملے وہ اگر محبت ہے بہت ہیں خواب مگر خواب ہی سے کیا ہوگا ہمارے بیچ جو حائل ہے وہ حقیقت ہے وہ دور ...

مزید پڑھیے

رکا جواب کی خاطر نہ کچھ سوال کیا

رکا جواب کی خاطر نہ کچھ سوال کیا مگر یہ زعم کہ ہر رابطہ بحال کیا تھکن نہیں ہے کٹھن راستوں پہ چلنے کی بچھڑنے والوں کے دکھ نے بہت نڈھال کیا جو ٹوٹنا تھا فقط درد ہی کا رشتہ تھا تو دل نے کیوں بھلا اس بات پر ملال کیا بچا کے رکھنا تھا اک عکس اپنی آنکھوں میں بڑے جتن سے انہیں آئینہ مثال ...

مزید پڑھیے

کون خواہش کرے کہ اور جیے

کون خواہش کرے کہ اور جیے ایک بیزار زندگی کے لیے اور کوئی نہیں ہے اس کے سوا سکھ دیے دکھ دیے اسی نے دیے آؤ ہونٹوں پہ لفظ رکھ لیں ہم ایک مدت ہوئی ہے بات کیے زخم کو راس آ گئی ہے ہوا اب مسیحا اسے سیے نہ سیے اس کے پیالے میں زہر ہے کہ شراب کیسے معلوم ہو بغیر پیے اب تھکن درد بنتی جاتی ...

مزید پڑھیے

کس سے بچھڑی کون ملا تھا بھول گئی

کس سے بچھڑی کون ملا تھا بھول گئی کون برا تھا کون تھا اچھا بھول گئی کتنی باتیں جھوٹی تھیں اور کتنی سچ جتنے بھی لفظوں کو پرکھا بھول گئی چاروں اور تھے دھندلے دھندلےچہرے سے خواب کی صورت جو بھی دیکھا بھول گئی سنتی رہی میں سب کے دکھ خاموشی سے کس کا دکھ تھا میرے جیسا بھول گئی بھول ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں نہ زلفوں میں نہ رخسار میں دیکھیں

آنکھوں میں نہ زلفوں میں نہ رخسار میں دیکھیں مجھ کو مری دانش مرے افکار میں دیکھیں ملبوس بدن دیکھیں ہیں رنگین قبا میں اب پیرہن ذات کو اظہار میں دیکھیں سو رنگ مضامین ہیں جب لکھنے پہ آؤں گلدستۂ معنی مرے اشعار میں دیکھیں پوری نہ ادھوری ہوں نہ کم تر ہوں نہ برتر انسان ہوں انسان کے ...

مزید پڑھیے

سکون دل کے لیے عشق تو بہانہ تھا

سکون دل کے لیے عشق تو بہانہ تھا وگرنہ تھک کے کہیں تو ٹھہر ہی جانا تھا جو اضطراب کا موسم گزار آئیں ہیں وہ جانتے ہیں کہ وحشت کا کیا زمانہ تھا وہ جن کو شکوہ تھا اوروں سے ظلم سہنے کا خود ان کا اپنا بھی انداز جارحانہ تھا بہت دنوں سے مجھے انتظار شب بھی نہیں وہ رت گزر گئی ہر خواب جب ...

مزید پڑھیے

مری زمیں پہ لگی آپ کے نگر میں لگی

مری زمیں پہ لگی آپ کے نگر میں لگی لگی ہے آگ جہاں بھی کسی کے گھر میں لگی عجیب رقص کہ وحشت کی تال ہے جس میں عجیب تال جو آسیب کے اثر میں لگی کواڑ بند کہاں منتظر تھے آہٹ کے لگی جو دیر تو دہلیز تک سفر میں لگی تمام خواب تھے وابستہ اس کے ہونے سے سو میری آنکھ بھی بس سایۂ شجر میں لگی حصار ...

مزید پڑھیے

پرندے کھیت میں اب تک پڑاؤ ڈالے ہیں

پرندے کھیت میں اب تک پڑاؤ ڈالے ہیں شکاری آج تماشہ دکھانے والے ہیں ہوائیں تیز ہیں آندھی نے پر نکالے ہیں بہت اداس پتنگیں اڑانے والے ہیں کمند پھینک نہ دینا زمیں کی وسعت پر نئے جزیرے سمندر نے پھر اچھالے ہیں چلو کے دیکھ لیں غالبؔ کے گھر کی دیواریں نئی رتوں نے بیاباں میں ڈیرے ڈالے ...

مزید پڑھیے

اب دھوپ مقدر ہوئی چھپر نہ ملے گا

اب دھوپ مقدر ہوئی چھپر نہ ملے گا ہم خانہ بدوشوں کو کہیں گھر نہ ملے گا آوارہ تمناؤں کو گر سمت نہ دو گے بھٹکی ہوئی امت کو پیمبر نہ ملے گا سورج ہی نظر آئے گا نیزے پہ ہمیشہ سچائی کے شانوں پہ کبھی سر نہ ملے گا الفاظ مسائل کے شراروں سے بھرے ہیں غزلوں میں مری حسن کا پیکر نہ ملے گا ہارو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4180 سے 5858