شاعری

سراغ بھی نہ ملے اجنبی صدا کے مجھے

سراغ بھی نہ ملے اجنبی صدا کے مجھے یہ کون چھپ گیا صحراؤں میں بلا کے مجھے میں اس کی باتوں میں غم اپنا بھول جاتا مگر وہ شخص رونے لگا خود ہنسا ہنسا کے مجھے اسے یقین کہ میں جان دے نہ پاؤں گا مجھے یہ خوف کہ روئے گا آزما کے مجھے جو دور رہ کے اڑاتا رہا مذاق مرا قریب آیا تو رویا گلے لگا کے ...

مزید پڑھیے

صبح ہوتی ہے تو دفتر میں بدل جاتا ہے

صبح ہوتی ہے تو دفتر میں بدل جاتا ہے یہ مکاں رات کو پھر گھر میں بدل جاتا ہے اب تو ہر شہر ہے اک شہر طلسمی کہ جہاں جو بھی جاتا ہے وہ پتھر میں بدل جاتا ہے ایک لمحہ بھی ٹھہرتا نہیں لمحہ کوئی پیش منظر پس منظر میں بدل جاتا ہے نقش ابھرتا ہے امیدوں کا فلک پر کوئی اور پھر دھند کی چادر میں ...

مزید پڑھیے

پڑا تھا لکھنا مجھے خود ہی مرثیہ میرا

پڑا تھا لکھنا مجھے خود ہی مرثیہ میرا کہ میرے بعد بھلا اور کون تھا میرا عجیب طور کی مجھ کو سزا سنائی گئی بدن کے نیزے پہ سر رکھ دیا گیا میرا یہی کہ سانس بھی لینے نہ دے گی اب مجھ کو زیادہ اور بگاڑے گی کیا ہوا میرا میں اپنی روح لیے در بہ در بھٹکتا رہا بدن سے دور مکمل وجود تھا ...

مزید پڑھیے

آؤ مل کر کھیلیں کھو کھو

بندر بولا ساتھی آؤ ہم سب مل کر کھیلیں کھو کھو لیکن چوہیا کچھ نہ بولی چپکے چپکے کھیلے گولی بارہ سنگھے کا کہنا ہے کرکٹ سب سے کھیل اچھا ہے گیدڑ بھی ہو گیا نکھٹو چھوڑ پڑھائی کھیلے لٹو بھالو کی مضبوط ہے ہڈی روز کھیلتا خوب کبڈی ہاتھی اپنا نام ہے کرتا ہے مسٹر خرگوش کا کہنا دوڑ بھاگ کا ...

مزید پڑھیے

ہمارے دل کی بجا دی ہے اس نے اینٹ سے اینٹ (ردیف .. ا)

ہمارے دل کی بجا دی ہے اس نے اینٹ سے اینٹ ہمارے آگے کبھی اس کا نام مت لینا اسی نگاہ سے پینے میں لطف ہے سارا علاوہ اس کے کوئی اور جام مت لینا اسی سبب سے ہے دنیا میں آسماں بدنام تم اپنے ہاتھ میں یہ انتظام مت لینا دل و نظر کی بقا ہے فقط محبت میں دل و نظر سے کوئی اور کام مت لینا یہاں ...

مزید پڑھیے

تمہارے لیے مسکراتی سحر ہے

تمہارے لیے مسکراتی سحر ہے ہمارے لیے رات کا یہ نگر ہے اکیلے یہاں بیٹھ کر کیا کریں گے بلایا ہے جس نے ہمیں وہ کدھر ہے پریشاں ہوں کس کس کا سرمہ بناؤں یہاں تو ہر اک کی اسی پر نظر ہے اجالا ہیں رخسار جادو ہیں آنکھیں بظاہر وہ سب کی طرح اک بشر ہے وہ جس نے ہمیشہ ہمیں دکھ دیئے ہیں تماشہ تو ...

مزید پڑھیے

اس کی گلی میں ظرف سے بڑھ کر ملا مجھے

اس کی گلی میں ظرف سے بڑھ کر ملا مجھے اک پیالہ جستجو تھی سمندر ملا مجھے میں چل پڑا تھا اور کسی شاہراہ پر خنجر بہ دست یادوں کا لشکر ملا مجھے دریائے شب سے پار اترنا محال تھا ٹوٹا ہوا سفینۂ خاور ملا مجھے تاروں میں اس کا عکس ہے پھولوں میں اس کا رنگ میں جس طرف گیا مرا دلبر ملا ...

مزید پڑھیے

ہوا نے چھین لیا آ کے میرے ہونٹوں سے (ردیف .. ی)

ہوا نے چھین لیا آ کے میرے ہونٹوں سے وہ ایک گیت جو میں گنگنا رہا تھا ابھی وہ جا کے نیند کے پہلو میں مجھ سے چھپنے لگا میں اس کو اپنی کہانی سنا رہا تھا ابھی کہ دل میں آ کے نیا تیر ہو گیا پیوست پرانا زخم میں اس کو دکھا رہا تھا ابھی برس رہی تھی زمیں پر عجیب مدہوشی نہ جانے کون فضاؤں میں ...

مزید پڑھیے

ان نگاہوں کو ہم آواز کیا ہے میں نے

ان نگاہوں کو ہم آواز کیا ہے میں نے تب کہیں گیت کا آغاز کیا ہے میں نے ختم ہو تاکہ ستاروں کی اجارہ داری خاک کو مائل پرواز کیا ہے میں نے آپ کو اک نئی خفت سے بچانے کے لیے چاندنی کو نظر انداز کیا ہے میں نے آسمانوں کی طرف اور نہیں دیکھوں گا اک نئے دور کا آغاز کیا ہے میں نے روٹھے لوگوں ...

مزید پڑھیے

بڑا غرور ہے پل بھر کی نیک نامی کا

بڑا غرور ہے پل بھر کی نیک نامی کا رواج عام ہے اس دور میں غلامی کا امیر شہر نے دستار چھین لی اس کی صلہ عجیب دیا روز کی سلامی کا لب فرات رہے پیاسے وارث زمزم شکار اکیلا نہیں میں ہی تشنہ کامی کا بصارت ایسی بصیرت نواز دے اللہ ہمیں سجھائی دے نکتہ ہماری خامی کا کبھی تو آئنہ چہرے کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4172 سے 5858