شاعری

طوفاں سے بچ کے دامن ساحل میں رہ گیا

طوفاں سے بچ کے دامن ساحل میں رہ گیا مشکل کے بعد اور بھی مشکل میں رہ گیا اک شور تھا جو گوشۂ محفل میں رہ گیا اک درد تھا جو دل سے اٹھا دل میں رہ گیا اب وہ نگاہ ناز ہوئی مائل کرم جب کوئی مدعا نہ مرے دل میں رہ گیا منزل مرے قریب سے ہو کر گزر گئی اور میں تلاش جادۂ منزل میں رہ گیا منزل ...

مزید پڑھیے

لب پہ جھوٹے ترانے ہوتے ہیں

لب پہ جھوٹے ترانے ہوتے ہیں کیا کریں غم چھپانے ہوتے ہیں وہ بھی کیسے زمانے ہوتے ہیں جب قفس آشیانے ہوتے ہیں یوں ہی آتی نہیں خوشی کی بہار سیکڑوں غم اٹھانے ہوتے ہیں زندگی کا کچھ اعتبار نہیں موت کے سو بہانے ہوتے ہیں اس طرح بیٹھتا نہیں چھپ کر جس کو جلوے دکھانے ہوتے ہیں

مزید پڑھیے

شہرت طرز فغاں عام ہوئی جاتی ہے

شہرت طرز فغاں عام ہوئی جاتی ہے کوشش ضبط بھی ناکام ہوئی جاتی ہے مست ہیں اور طلب جام ہوئی جاتی ہے بے خودی ہوش کا پیغام ہوئی جاتی ہے مسکراتا ہے حسیں پردۂ گلشن میں کوئی اور کلی مفت میں بدنام ہوئی جاتی ہے قید میں بھی ہے اسیروں کا وہی جوش عمل مشق پرواز تہ دام ہوئی جاتی ہے توڑ کر دل ...

مزید پڑھیے

چمن اپنے رنگ میں مست ہے کوئی غم گسار دگر نہیں

چمن اپنے رنگ میں مست ہے کوئی غم گسار دگر نہیں کہ ہے شبنم اشک فشاں مگر گل تر کو کوئی خبر نہیں غم زندگی کا علاج تو کبھی موت سے بھی نہ ہو سکا یہ وہ سخت قید حیات ہے کسی طرح جس سے مفر نہیں مرے پاس جو بھی تھا لٹ گیا نہ وہ میں رہا نہ وہ دل رہا کسی اور شے کا تو ذکر کیا کہ اب آہ میں بھی اثر ...

مزید پڑھیے

غم جاناں سے رنگیں اور کوئی غم نہیں ہوتا

غم جاناں سے رنگیں اور کوئی غم نہیں ہوتا کہ اس کے درد میں احساس بیش و کم نہیں ہوتا وہ ہیں کم ظرف جن کا شور نالہ کم نہیں ہوتا چمن میں پھول بھی تو ہیں انہیں کیا غم نہیں ہوتا کمال ضبط گریہ عظمت شان محبت ہے چھلک جائے جو پیمانہ وہ جام جم نہیں ہوتا یہاں تک دل کو عادت ہو گئی ہے بے قراری ...

مزید پڑھیے

حاصل ضبط فغاں ناکام ہے

حاصل ضبط فغاں ناکام ہے اب تو خاموشی پہ بھی الزام ہے کوئی آواز شکست جام ہے توبہ توبہ ہر طرف کہرام ہے یہ بھی فیض گردش ایام ہے صبح ہے اپنی نہ اپنی شام ہے دل ہوا ترک و طلب سے بے نیاز اب یہاں آرام ہی آرام ہے بحر طوفاں خیز کا ساحل کہاں عشق کا آغاز بے انجام ہے رنج کوئی شے نہ کوئی شے ...

مزید پڑھیے

ہستی اک نقش انعکاسی ہے

ہستی اک نقش انعکاسی ہے یہ حقیقت نہیں قیاسی ہے ذوق تشنہ ہے روح پیاسی ہے سارا ماحول ہی سیاسی ہے کھب گئی دل میں ہر ادا اس کی کج ادائی بھی خوش ادا سی ہے دل ہے افسردہ تو بہار کہاں باغ میں ہر طرف اداسی ہے ان کو پا کر قرار آئے گا اہل دل یہ بھی خوش قیاسی ہے سو حجابوں میں بے حجاب ہے ...

مزید پڑھیے

اس تماشے کا سبب ورنہ کہاں باقی ہے

اس تماشے کا سبب ورنہ کہاں باقی ہے اب بھی کچھ لوگ ہیں زندہ کہ جہاں باقی ہے اہل صحرا بھی بڑھے آتے ہیں شہروں کی طرف سانس لینے کو جہاں صرف دھواں باقی ہے زندگی عمر کے اس موڑ پہ پہنچی ہے جہاں سود ناپید ہے احساس زیاں باقی ہے ڈھونڈھتی رہتی ہے ہر لمحہ نگاہ دہشت اور کس شہر محبت میں اماں ...

مزید پڑھیے

سبب تھی فطرت انساں خراب موسم کا

سبب تھی فطرت انساں خراب موسم کا فرشتے جھیل رہے ہیں عذاب موسم کا وہ تشنہ لب بھی فریب نظر میں آئے گا اسے بھی ڈھونڈ ہی لے گا سراب موسم کا درخت یوں ہی اگر سبز سبز کٹتے رہے بدل نہ جائے زمیں پر نصاب موسم کا میں جس میں رہ نہ سکا جی حضوریوں کے سبب یہ آدمی ہے اسی کامیاب موسم کا اسی امید ...

مزید پڑھیے

اسی فتور میں کرب و بلا سے لپٹے ہوئے

اسی فتور میں کرب و بلا سے لپٹے ہوئے تمام عمر گنوا دی انا سے لپٹے ہوئے ابھی بھی مل نہ سکی ان کی خامشی کو زباں یہ لوگ اب بھی ہیں صوت و صدا سے لپٹے ہوئے ہوا کے شہر میں بس سانس لینے آتے ہیں وگرنہ اہل زمیں ہیں خلا سے لپٹے ہوئے ہر ایک سمت لگا ہے خموشیوں کا ہجوم یہ کون لوگ ہیں کوہ ندا سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4171 سے 5858