طوفاں سے بچ کے دامن ساحل میں رہ گیا
طوفاں سے بچ کے دامن ساحل میں رہ گیا مشکل کے بعد اور بھی مشکل میں رہ گیا اک شور تھا جو گوشۂ محفل میں رہ گیا اک درد تھا جو دل سے اٹھا دل میں رہ گیا اب وہ نگاہ ناز ہوئی مائل کرم جب کوئی مدعا نہ مرے دل میں رہ گیا منزل مرے قریب سے ہو کر گزر گئی اور میں تلاش جادۂ منزل میں رہ گیا منزل ...