شاعری

یہ سناٹا بہت مہنگا پڑے گا

یہ سناٹا بہت مہنگا پڑے گا اسے بھی پھوٹ کر رونا پڑے گا وہی دو چار چہرے اجنبی سے انہیں کو پھر سے دہرانا پڑے گا کوئی گھر سے نکلتا ہی نہیں ہے ہوا کو تھک کے سو جانا پڑے گا یہاں سورج بھی کالا پڑ گیا ہے کہیں سے دن بھی منگوانا پڑے گا وہ اچھے تھے جو پہلے مر گئے ہیں ہمیں اب اور پچھتانا ...

مزید پڑھیے

خواہشوں کے حصار سے نکلو

خواہشوں کے حصار سے نکلو جلتی سڑکوں پہ ننگے پاؤں پھرو رات کو پھر نگل گیا سورج شام تک پھر ادھر ادھر بھٹکو شرم پیشانیوں پہ بیٹھی ہے گھر سے نکلو تو سر جھکائے رہو مانگنے سے ہوا ہے وہ خود سر کچھ دنوں کچھ نہ مانگ کر دیکھو جس سے ملتے ہو کام ہوتا ہے بے غرض بھی کبھی کسی سے ملو در بہ در ...

مزید پڑھیے

اسے معلوم ہے میں سرپھرا ہوں

اسے معلوم ہے میں سرپھرا ہوں مگر خوش ہے کہ اس کو چاہتا ہوں یہ بستی کب درندوں سے تھی خالی میں پھر بھی ٹھیک لوگوں میں رہا ہوں جو چاہے وہ مجھے بے دام لے لے خریداروں کے ہاتھوں کم بکا ہوں تری چاہت بہانہ ہے یقیں کر بہ ہر صورت میں خود کو چاہتا ہوں ذرا سن بے نیاز لمس سن لے میں تجھ کو چھو ...

مزید پڑھیے

جن خوابوں سے نیند اڑ جائے ایسے خواب سجائے کون

جن خوابوں سے نیند اڑ جائے ایسے خواب سجائے کون اک پل جھوٹی تسکیں پا کر ساری رات گنوائے کون یہ تنہائی یہ سناٹا دل کو مگر سمجھائے کون اتنی بھیانک رات میں آخر ملنے والا آئے کون سنتے ہیں کہ ان راہوں میں مجنوں اور فرہاد لٹے لیکن اب آدھے رستے سے لوٹ کے واپس جائے کون سنتے سمجھتے ہوں ...

مزید پڑھیے

تمام اجنبی چہرے سجے ہیں چاروں طرف

تمام اجنبی چہرے سجے ہیں چاروں طرف مری بہشت میں کانٹے اگے ہیں چاروں طرف لہو میں ڈوبے ہوئے دائرے ہیں چاروں طرف میں کیسے جاؤں کہیں حادثے ہیں چاروں طرف کتاب درد کی پڑھ کر سنا رہی ہے حیات اور آنسوؤں کے فرشتے کھڑے ہیں چاروں طرف چلو یہ خوب ہوا آئنہ جو ٹوٹ گیا اب عکس میرے ہی بکھرے ...

مزید پڑھیے

ابھی نکلو نہ گھر سے تنگ آ کے

ابھی نکلو نہ گھر سے تنگ آ کے ابھی اچھے نہیں تیور ہوا کے فلک سے میں چلا شبنم کی صورت زمیں نے رکھ دیا پتھر بنا کے مرے زخمی لبوں پر کچھ نہیں ہے سوائے ایک لفظ بے نوا کے ہماری خامشی نے لاج رکھ لی نہیں تو ہاتھ کٹ جائے صدا کے بدن خوشبو کا لرزاں خوف سے ہے ہوا کو راز دل اپنا سنا کے سروں ...

مزید پڑھیے

جفائے یار کو ہم لطف یار کہتے ہیں

جفائے یار کو ہم لطف یار کہتے ہیں خزاں کو اپنی زباں میں بہار کہتے ہیں وہ ایک سنتے نہیں ہم ہزار کہتے ہیں مگر فسانہ بہر اعتبار کہتے ہیں زمانہ قید کو سمجھے ہوئے ہے آزادی کسی کے جبر کو ہم اختیار کہتے ہیں قفس میں رہ کے مجھے یہ بھی امتیاز نہیں کسے خزاں کسے فصل بہار کہتے ہیں نفس نفس ...

مزید پڑھیے

آرزو حسرت ناکام سے آگے نہ بڑھی

آرزو حسرت ناکام سے آگے نہ بڑھی فکر اندیشۂ انجام سے آگے نہ بڑھی سوئے منزل کبھی دو گام سے آگے نہ بڑھی زندگی موت کے الزام سے آگے نہ بڑھی زلف و رخ کے سحر و شام سے آگے نہ بڑھی عاشقی رہ گزر عام سے آگے نہ بڑھی رہ گئی رفعت پرواز کی حسرت دل میں پرفشانی قفس و دام سے آگے نہ بڑھی منزل بے ...

مزید پڑھیے

کسی اپنے سے ہوتی ہے نہ بیگانے سے ہوتی ہے

کسی اپنے سے ہوتی ہے نہ بیگانے سے ہوتی ہے جو الفت ایک دیوانے کو دیوانے سے ہوتی ہے سبو سے جام سے مینا سے پیمانے سے ہوتی ہے محبت مے سے ہو کر سارے مے خانے سے ہوتی ہے کوئی قصہ ہو کوئی واقعہ کوئی حکایت ہو تسلی دل کو درد دل کے افسانے سے ہوتی ہے مری توبہ سے کہہ دو وہ بھی آ کر شوق سے سن ...

مزید پڑھیے

حدیث سوز و ساز شمع و پروانہ نہیں کہتے

حدیث سوز و ساز شمع و پروانہ نہیں کہتے ہم اپنا حال دل کہتے ہیں افسانہ نہیں کہتے وہی مے نوش راز بادۂ الفت سمجھتے ہیں جو مستی کو رہین جام و پیمانہ نہیں کہتے سعادت سوز دل کی بھی بڑی مشکل سے ملتی ہے سر محفل ہر اک شعلے کو پروانہ نہیں کہتے ہمارا ٹوٹا ساغر ہی ہمارے کام آئے گا کسی کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4170 سے 5858