شاعری

جور و بے مہری اغماض پہ کیا روتا ہے

جور و بے مہری اغماض پہ کیا روتا ہے مہرباں بھی کوئی ہو جائے گا جلدی کیا ہے کھو دیا تم کو تو ہم پوچھتے پھرتے ہیں یہی جس کی تقدیر بگڑ جائے وہ کرتا کیا ہے دل کا اک کام جو ہوتا نہیں اک مدت سے تم ذرا ہاتھ لگا دو تو ہوا رکھا ہے نگۂ شوخ میں اور دل میں ہیں چوٹیں کیا کیا آج تک ہم نہ سمجھ ...

مزید پڑھیے

اب اکثر چپ چپ سے رہیں ہیں یونہی کبھو لب کھولیں ہیں

اب اکثر چپ چپ سے رہیں ہیں یونہی کبھو لب کھولیں ہیں پہلے فراقؔ کو دیکھا ہوتا اب تو بہت کم بولیں ہیں دن میں ہم کو دیکھنے والو اپنے اپنے ہیں اوقات جاؤ نہ تم ان خشک آنکھوں پر ہم راتوں کو رو لیں ہیں فطرت میری عشق و محبت قسمت میری تنہائی کہنے کی نوبت ہی نہ آئی ہم بھی کسو کے ہو لیں ...

مزید پڑھیے

ہجر و وصال یار کا پردہ اٹھا دیا

ہجر و وصال یار کا پردہ اٹھا دیا خود بڑھ کے عشق نے مجھے میرا پتا دیا گرد و غبار ہستئ فانی اڑا دیا اے کیمیائے عشق مجھے کیا بنا دیا وہ سامنے ہے اور نظر سے چھپا دیا اے عشق‌ بے حجاب مجھے کیا دکھا دیا وہ شان خامشی کہ بہاریں ہیں منتظر وہ رنگ گفتگو کہ گلستاں بنا دیا دم لے رہی تھیں حسن ...

مزید پڑھیے

جہان غنچۂ دل کا فقط چٹکنا تھا

جہان غنچۂ دل کا فقط چٹکنا تھا اسی کی بوئے پریشاں وجود دنیا تھا یہ کہہ کے کل کوئی بے اختیار روتا تھا وہ اک نگاہ سہی کیوں کسی کو دیکھا تھا طنابیں کوچۂ قاتل کی کھنچتی جاتی تھیں شہید تیغ ادا میں بھی زور کتنا تھا بس اک جھلک نظر آئی اڑے کلیم کے ہوش بس اک نگاہ ہوئی خاک طور سینا تھا ہر ...

مزید پڑھیے

مجھ کو مارا ہے ہر اک درد و دوا سے پہلے

مجھ کو مارا ہے ہر اک درد و دوا سے پہلے دی سزا عشق نے ہر جرم و خطا سے پہلے آتش عشق بھڑکتی ہے ہوا سے پہلے ہونٹ جلتے ہیں محبت میں دعا سے پہلے فتنے برپا ہوئے ہر غنچۂ سربستہ سے کھل گیا راز چمن چاک قبا سے پہلے چال ہے بادۂ ہستی کا چھلکتا ہوا جام ہم کہاں تھے ترے نقش کف پا سے پہلے اب کمی ...

مزید پڑھیے

دیدار میں اک طرفہ دیدار نظر آیا

دیدار میں اک طرفہ دیدار نظر آیا ہر بار چھپا کوئی ہر بار نظر آیا چھالوں کو بیاباں بھی گلزار نظر آیا جب چھیڑ پر آمادہ ہر خار نظر آیا صبح شب ہجراں کی وہ چاک گریبانی اک عالم نیرنگی ہر تار نظر آیا ہو صبر کہ بیتابی امید کہ مایوسی نیرنگ محبت بھی بیکار نظر آیا جب چشم سیہ تیری تھی ...

مزید پڑھیے

کوئی پیغام محبت لب اعجاز تو دے

کوئی پیغام محبت لب اعجاز تو دے موت کی آنکھ بھی کھل جائے گی آواز تو دے مقصد عشق ہم آہنگیٔ جزو و کل ہے درد ہی درد سہی دل بوئے دم ساز تو دے چشم مخمور کے عنوان نظر کچھ تو کھلیں دل رنجور دھڑکنے کا کچھ انداز تو دے اک ذرا ہو نشۂ حسن میں انداز خمار اک جھلک عشق کے انجام کی آغاز تو دے جو ...

مزید پڑھیے

غم ترا جلوہ گہہ کون و مکاں ہے کہ جو تھا

غم ترا جلوہ گہہ کون و مکاں ہے کہ جو تھا یعنی انسان وہی شعلہ بجاں ہے کہ جو تھا پھر وہی رنگ تکلم نگہ ناز میں ہے وہی انداز وہی حسن بیاں ہے کہ جو تھا کب ہے انکار ترے لطف و کرم سے لیکن تو وہی دشمن دل دشمن جاں ہے کہ جو تھا عشق افسردہ نہیں آج بھی افسردہ بہت وہی کم کم اثر سوز نہاں ہے کہ جو ...

مزید پڑھیے

طور تھا کعبہ تھا دل تھا جلوہ زار یار تھا

طور تھا کعبہ تھا دل تھا جلوہ زار یار تھا عشق سب کچھ تھا مگر پھر عالم اسرار تھا نشۂ صد جام کیف انتظار یار تھا ہجر میں ٹھہرا ہوا دل ساغر سرشار تھا الوداع اے بزم انجم ہجر کی شب الفراق تا بہ دور‌ زندگانی انتظار یار تھا ایک ادا سے بے نیاز قرب و دوری کر دیا ماورائے وصل و ہجراں حسن ...

مزید پڑھیے

کمی نہ کی ترے وحشی نے خاک اڑانے میں

کمی نہ کی ترے وحشی نے خاک اڑانے میں جنوں کا نام اچھلتا رہا زمانے میں فراقؔ دوڑ گئی روح سی زمانے میں کہاں کا درد بھرا تھا مرے فسانے میں جنوں سے بھول ہوئی دل پہ چوٹ کھانے میں فراقؔ دیر ابھی تھی بہار آنے میں وہ کوئی رنگ ہے جو اڑ نہ جائے اے گل تر وہ کوئی بو ہے جو رسوا نہ ہو زمانے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4162 سے 5858