شاعری

کچھ نہ کچھ عشق کی تاثیر کا اقرار تو ہے

کچھ نہ کچھ عشق کی تاثیر کا اقرار تو ہے اس کا الزام تغافل پہ کچھ انکار تو ہے ہر فریب غم دنیا سے خبردار تو ہے تیرا دیوانہ کسی کام میں ہشیار تو ہے دیکھ لیتے ہیں سبھی کچھ ترے مشتاق جمال خیر دیدار نہ ہو حسرت دیدار تو ہے معرکے سر ہوں اسی برق نظر سے اے حسن یہ چمکتی ہوئی چلتی ہوئی تلوار ...

مزید پڑھیے

آج بھی قافلۂ عشق رواں ہے کہ جو تھا

آج بھی قافلۂ عشق رواں ہے کہ جو تھا وہی میل اور وہی سنگ نشاں ہے کہ جو تھا پھر ترا غم وہی رسوائے جہاں ہے کہ جو تھا پھر فسانہ بحدیث دگراں ہے کہ جو تھا منزلیں گرد کے مانند اڑی جاتی ہیں وہی انداز جہان گزراں ہے کہ جو تھا ظلمت و نور میں کچھ بھی نہ محبت کو ملا آج تک ایک دھندلکے کا سماں ہے ...

مزید پڑھیے

تیز احساس خودی درکار ہے

تیز احساس خودی درکار ہے زندگی کو زندگی درکار ہے جو چڑھا جائے خمستان جہاں ہاں وہی لب تشنگی درکار ہے دیوتاؤں کا خدا سے ہوگا کام آدمی کو آدمی درکار ہے سو گلستاں جس اداسی پر نثار مجھ کو وہ افسردگی درکار ہے شاعری ہے سربسر تہذیب‌ قلب اس کو غم شائستگی درکار ہے شعلہ میں لاتا ہے جو ...

مزید پڑھیے

زندگی درد کی کہانی ہے

زندگی درد کی کہانی ہے چشم انجم میں بھی تو پانی ہے بے نیازانہ سن لیا غم دل مہربانی ہے مہربانی ہے وہ بھلا میری بات کیا مانے اس نے اپنی بھی بات مانی ہے شعلۂ دل ہے یہ کہ شعلہ ساز یا ترا شعلۂ جوانی ہے وہ کبھی رنگ وہ کبھی خوشبو گاہ گل گاہ رات رانی ہے بن کے معصوم سب کو تاڑ گئی آنکھ ...

مزید پڑھیے

بستیاں ڈھونڈھ رہی ہیں انہیں ویرانوں میں

بستیاں ڈھونڈھ رہی ہیں انہیں ویرانوں میں وحشتیں بڑھ گئیں حد سے ترے دیوانوں میں نگۂ ناز نہ دیوانوں نہ فرزانوں میں جان کار ایک وہی ہے مگر انجانوں میں بزم مے بے خود و بے تاب نہ کیوں ہو ساقی موج بادہ ہے کہ درد اٹھتا ہے پیمانوں میں میں تو میں چونک اٹھی ہے یہ فضائے خاموش یہ صدا کب کی ...

مزید پڑھیے

رات بھی نیند بھی کہانی بھی

رات بھی نیند بھی کہانی بھی ہائے کیا چیز ہے جوانی بھی ایک پیغام زندگانی بھی عاشقی مرگ ناگہانی بھی اس ادا کا تری جواب نہیں مہربانی بھی سرگرانی بھی دل کو اپنے بھی غم تھے دنیا میں کچھ بلائیں تھیں آسمانی بھی منصب دل خوشی لٹانا ہے غم پنہاں کی پاسبانی بھی دل کو شعلوں سے کرتی ہے ...

مزید پڑھیے

ہاتھ آئے تو وہی دامن جاناں ہو جائے

ہاتھ آئے تو وہی دامن جاناں ہو جائے چھوٹ جائے تو وہی اپنا گریباں ہو جائے عشق اب بھی ہے وہ محرم بیگانہ نما حسن یوں لاکھ چھپے لاکھ نمایاں ہو جائے ہوش و غفلت سے بہت دور ہے کیفیت عشق اس کی ہر بے خبری منزل عرفاں ہو جائے یاد آتی ہے جب اپنی تو تڑپ جاتا ہوں میری ہستی ترا بھولا ہوا پیماں ...

مزید پڑھیے

وہ چپ چاپ آنسو بہانے کی راتیں

وہ چپ چاپ آنسو بہانے کی راتیں وہ اک شخص کے یاد آنے کی راتیں شب مہ کی وہ ٹھنڈی آنچیں وہ شبنم ترے حسن کے رسمسانے کی راتیں جوانی کی دوشیزگی کا تبسم گل زار کے وہ کھلانے کی راتیں پھواریں سی نغموں کی پڑتی ہوں جیسے کچھ اس لب کے سننے سنانے کی راتیں مجھے یاد ہے تیری ہر صبح رخصت مجھے یاد ...

مزید پڑھیے

ہر نالہ ترے درد سے اب اور ہی کچھ ہے

ہر نالہ ترے درد سے اب اور ہی کچھ ہے ہر نغمہ سر بزم طرب اور ہی کچھ ہے ارباب وفا جان بھی دینے کو ہیں تیار ہستی کا مگر حسن طلب اور ہی کچھ ہے یہ کام نہ لے نالہ و فریاد و فغاں سے افلاک الٹ دینے کا ڈھب اور ہی کچھ ہے اک سلسلۂ راز ہے جینا کہ ہو مرنا جب اور ہی کچھ تھا مگر اب اور ہی کچھ ...

مزید پڑھیے

کچھ اشارے تھے جنہیں دنیا سمجھ بیٹھے تھے ہم

کچھ اشارے تھے جنہیں دنیا سمجھ بیٹھے تھے ہم اس نگاہ آشنا کو کیا سمجھ بیٹھے تھے ہم رفتہ رفتہ غیر اپنی ہی نظر میں ہو گئے واہ ری غفلت تجھے اپنا سمجھ بیٹھے تھے ہم ہوش کی توفیق بھی کب اہل دل کو ہو سکی عشق میں اپنے کو دیوانہ سمجھ بیٹھے تھے ہم پردۂ آزردگی میں تھی وہ جان التفات جس ادا کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4163 سے 5858