شاعری

دور آغاز جفا دل کا سہارا نکلا

دور آغاز جفا دل کا سہارا نکلا حوصلہ کچھ نہ ہمارا نہ تمہارا نکلا تیرا نام آتے ہی سکتے کا تھا عالم مجھ پر جانے کس طرح یہ مذکور دوبارا نکلا ہوش جاتا ہے جگر جاتا ہے دل جاتا ہے پردے ہی پردے میں کیا تیرا اشارا نکلا ہے ترے کشف و کرامات کی دنیا قائل تجھ سے اے دل نہ مگر کام ہمارا ...

مزید پڑھیے

ہنڈولا

دیار ہند تھا گہوارہ یاد ہے ہم دم بہت زمانہ ہوا کس کے کس کے بچپن کا اسی زمین پہ کھیلا ہے رامؔ کا بچپن اسی زمین پہ ان ننھے ننھے ہاتھوں نے کسی سمے میں دھنش بان کو سنبھالا تھا اسی دیار نے دیکھی ہے کرشنؔ کی لیلا یہیں گھروندوں میں سیتا سلوچنا رادھا کسی زمانے میں گڑیوں سے کھیلتی ہوں ...

مزید پڑھیے

جگنو

یہ مست مست گھٹا، یہ بھری بھری برسات تمام حد نظر تک گھلاوٹوں کا سماں فضائے شام میں ڈورے سے پڑتے جاتے ہیں جدھر نگاہ کریں کچھ دھواں سا اٹھتا ہے دہک اٹھا ہے طراوت کی آنچ سے آکاش ز فرش تا فلک انگڑائیوں کا عالم ہے یہ مد بھری ہوئی پروائیاں سنکتی ہوئی جھنجھوڑتی ہے ہری ڈالیوں کو سرد ...

مزید پڑھیے

نرم فضا کی کروٹیں دل کو دکھا کے رہ گئیں

نرم فضا کی کروٹیں دل کو دکھا کے رہ گئیں ٹھنڈی ہوائیں بھی تری یاد دلا کے رہ گئیں شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں مجھ کو خراب کر گئیں نیم نگاہیاں تری مجھ سے حیات و موت بھی آنکھیں چرا کے رہ گئیں حسن نظر فریب میں کس کو کلام تھا ...

مزید پڑھیے

فراقؔ اک نئی صورت نکل تو سکتی ہے

فراقؔ اک نئی صورت نکل تو سکتی ہے بقول اس آنکھ کے دنیا بدل تو سکتی ہے ترے خیال کو کچھ چپ سی لگ گئی ورنہ کہانیوں سے شب غم بہل تو سکتی ہے عروس دہر چلے کھا کے ٹھوکریں لیکن قدم قدم پہ جوانی ابل تو سکتی ہے پلٹ پڑے نہ کہیں اس نگاہ کا جادو کہ ڈوب کر یہ چھری کچھ اچھل تو سکتی ہے بجھے ہوئے ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں جو بات ہو گئی ہے

آنکھوں میں جو بات ہو گئی ہے اک شرح حیات ہو گئی ہے جب دل کی وفات ہو گئی ہے ہر چیز کی رات ہو گئی ہے غم سے چھٹ کر یہ غم ہے مجھ کو کیوں غم سے نجات ہو گئی ہے مدت سے خبر ملی نہ دل کی شاید کوئی بات ہو گئی ہے جس شے پہ نظر پڑی ہے تیری تصویر حیات ہو گئی ہے اب ہو مجھے دیکھیے کہاں صبح ان زلفوں ...

مزید پڑھیے

بحثیں چھڑی ہوئی ہیں حیات و ممات کی

بحثیں چھڑی ہوئی ہیں حیات و ممات کی سو بات بن گئی ہے فراقؔ ایک بات کی ساز نوائے درد حجابات دہر میں کتنی دکھی ہوئی ہیں رگیں کائنات کی رکھ لی جنہوں نے کشمکش زندگی کی لاج بے دردیاں نہ پوچھئے ان سے حیات کی یوں فرط بے خودی سے محبت میں جان دے تجھ کو بھی کچھ خبر نہ ہو اس واردات کی ہے ...

مزید پڑھیے

تمہیں کیوں کر بتائیں زندگی کو کیا سمجھتے ہیں

تمہیں کیوں کر بتائیں زندگی کو کیا سمجھتے ہیں سمجھ لو سانس لینا خودکشی کرنا سمجھتے ہیں کسی بدمست کو راز آشنا سب کا سمجھتے ہیں نگاہ یار تجھ کو کیا بتائیں کیا سمجھتے ہیں بس اتنے پر ہمیں سب لوگ دیوانہ سمجھتے ہیں کہ اس دنیا کو ہم اک دوسری دنیا سمجھتے ہیں کہاں کا وصل تنہائی نے شاید ...

مزید پڑھیے

جنون کارگر ہے اور میں ہوں

جنون کارگر ہے اور میں ہوں حیات بے خبر ہے اور میں ہوں مٹا کر دل نگاہ اولیں سے تقاضائے دگر ہے اور میں ہوں کہاں میں آ گیا اے زور پرواز وبال بال و پر ہے اور میں ہوں نگاہ اولیں سے ہو کے برباد تقاضائے دگر ہے اور میں ہوں مبارک باد ایام اسیری غم دیوار و در ہے اور میں ہوں تری جمعیتیں ...

مزید پڑھیے

یہ نرم نرم ہوا جھلملا رہے ہیں چراغ

یہ نرم نرم ہوا جھلملا رہے ہیں چراغ ترے خیال کی خوشبو سے بس رہے ہیں دماغ دلوں کو تیرے تبسم کی یاد یوں آئی کہ جگمگا اٹھیں جس طرح مندروں میں چراغ جھلکتی ہے کھنچی شمشیر میں نئی دنیا حیات و موت کے ملتے نہیں ہیں آج دماغ حریف سینۂ مجروح و آتش غم عشق نہ گل کی چاک گریبانیاں نہ لالے کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4161 سے 5858