ترے گلے میں جو بانہوں کو ڈال رکھتے ہیں
ترے گلے میں جو بانہوں کو ڈال رکھتے ہیں تجھے منانے کا کیسا کمال رکھتے ہیں تجھے خبر ہے تجھے سوچنے کی خاطر ہم بہت سے کام مقدر پہ ٹال رکھتے ہیں کوئی بھی فیصلہ ہم سوچ کر نہیں کرتے تمہارے نام کا سکہ اچھال رکھتے ہیں تمہارے بعد یہ عادت سی ہو گئی اپنی بکھرتے سوکھتے پتے سنبھال رکھتے ...