اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں
اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں دھوپ اتری ہوئی ہے بالوں میں تم مری آنکھ کے سمندر میں تم مری روح کے اجالوں میں پھول ہی پھول کھل اٹھے مجھ میں کون آیا مرے خیالوں میں میں نے جی بھر کے تجھ کو دیکھ لیا تجھ کو الجھا کے کچھ سوالوں میں میری خوشیوں کی کائنات بھی تو تو ہی دکھ درد کے حوالوں ...