آج جس پر یہ پردہ داری ہے
آج جس پر یہ پردہ داری ہے کل اسی کی تو دعوے داری ہے آئینہ مجھ سے کہہ رہا ہے یہی میرے چہرے پہ بے قراری ہے آج وعدہ وہ پھر نبھائے گا وادی و گل پہ کیا خماری ہے تیری آنکھیں یہ صاف کہتی ہے رات کتنی حسیں گزاری ہے
آج جس پر یہ پردہ داری ہے کل اسی کی تو دعوے داری ہے آئینہ مجھ سے کہہ رہا ہے یہی میرے چہرے پہ بے قراری ہے آج وعدہ وہ پھر نبھائے گا وادی و گل پہ کیا خماری ہے تیری آنکھیں یہ صاف کہتی ہے رات کتنی حسیں گزاری ہے
جب سے میں نے عشق کا پیراہن پہنا ہے سورج مجھ سے آنکھ چراتا پھرتا ہے اس کی باتیں مجھ سے تو اب پوچھو نا حال اس کا بھی بالکل میرے جیسا ہے کیسے اس کو دل کی حالت سمجھاؤں بات کروں تو آنکھ چرانے لگتا ہے کچھ نہ کہنا اس کی بھی مجبوری ہے شرم و حیا کا دامن اس نے تھاما ہے دیکھ اسے سب ذکر ...
جو اس کے سامنے میرا یہ حال آ جائے تو دکھ سے اور بھی اس پر جمال آ جائے مرا خیال بھی گھنگرو پہن کے ناچے گا اگر خیال کو تیرا خیال آ جائے ہر ایک شام نئے خواب اس پہ کاڑھیں گے ہمارے ہاتھ اگر تیری شال آ جائے انہی دنوں وہ مرے ساتھ چائے پیتا تھا کہیں سے کاش مرا پچھلا سال آ جائے میں اپنے ...
قلم ہو تیغ ہو تیشہ کہ ڈھال مت چھنیو کبھی کسی سے کسی کا کمال مت چھنیو خوشی اسی میں اگر ہے تو ہر خوشی لے لو یہ دکھ یہ درد یہ حزن و ملال مت چھنیو اسی خلش کے سبب پھر مجھے ابھرنا ہے خدا کے واسطے عہد زوال مت چھنیو میں چھوڑ سکتا نہیں ساتھ استقامت کا مری اذان سے جوش بلال مت چھنیو ابھی ...
مان لے اب بھی مری جان ادا درد نہ چن کام آتی نہیں پھر کوئی دعا درد نہ چن اور کچھ دیر میں مجھ کو چلے جانا ہوگا اور کچھ دیر مجھے خواب دکھا درد نہ چن ایک بھی درد نہ کم ہوگا کئی صدیوں میں اب بھی کہتا ہوں تجھے وقت بچا درد نہ چن وہ جو لکھا ہے کسی طور نہیں ٹل سکتا آ مرے دل میں کوئی دیپ جلا ...
کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا تو بڑے پیار سے چاؤ سے بڑے مان کے ساتھ اپنی نازک سی کلائی میں چڑھاتی مجھ کو اور بیتابی سے فرقت کے خزاں لمحوں میں تو کسی سوچ میں ڈوبی جو گھماتی مجھ کو میں ترے ہاتھ کی خوشبو سے مہک سا جاتا جب کبھی موڈ میں آ کر مجھے چوما کرتی تیرے ہونٹوں کی میں حدت سے ...
کل ہمیشہ کی طرح اس نے کہا یہ فون پر میں بہت مصروف ہوں مجھ کو بہت سے کام ہیں اس لیے تم آؤ ملنے میں تو آ سکتی نہیں ہر روایت توڑ کر اس بار میں نے کہہ دیا تم جو ہو مصروف تو میں بھی بہت مصروف ہوں تم جو ہو مشہور تو میں بھی بہت معروف ہوں تم اگر غمگین ہو میں بھی بہت رنجور ہوں تم تھکن سے چور تو ...
بھنور کی گود میں جیسے کنارہ ساتھ رہتا ہے کچھ ایسے ہی تمہارا اور ہمارا ساتھ رہتا ہے محبت ہو کہ نفرت ہو اسی سے مشورہ ہوگا مری ہر کیفیت میں استخارہ ساتھ ہوتا ہے سفر میں عین ممکن ہے میں خود کو چھوڑ دوں لیکن دعائیں کرنے والوں کا سہارا ساتھ رہتا ہے مرے مولا نے مجھ کو چاہتوں کی سلطنت ...
غم کی اس سل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی تو مرے دل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی مجھ کو تسلیم تری ساری ذہانت لیکن مجھ سے جاہل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی پوچھ لے مجھ سے حقیقت تو وگرنہ اپنے آنکھ کے تل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی بن محبت کے تو ہنستی ہوئی ان آنکھوں کی بھیگی جھلمل کو ...
اس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہوگا ایک دن آئے گا وہ شخص ہمارا ہوگا زندگی اب کے مرا نام نہ شامل کرنا گر یہ طے ہے کہ یہی کھیل دوبارہ ہوگا جس کے ہونے سے مری سانس چلا کرتی تھی کس طرح اس کے بغیر اپنا گزارہ ہوگا عشق کرنا ہے تو دن رات اسے سوچنا ہے اور کچھ ذہن میں آیا تو خسارہ ہوگا کون ...