گلوں کو سننا ذرا تم صدائیں بھیجی ہیں
گلوں کو سننا ذرا تم صدائیں بھیجی ہیں گلوں کے ہاتھ بہت سی دعائیں بھیجی ہیں جو آفتاب کبھی بھی غروب ہوتا نہیں ہمارا دل ہے اسی کی شعاعیں بھیجی ہیں اگر جلائے تمہیں بھی شفا ملے شاید اک ایسے درد کی تم کو شعاعیں بھیجی ہیں تمہاری خشک سی آنکھیں بھلی نہیں لگتیں وہ ساری چیزیں جو تم کو ...